انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 553 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 553

انوار العلوم جلد 23 بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ 553 مسئلہ خلافت نَحْمَدُهُ وَنَصَلَّىٰ عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ مسئلء خلافت (فرمودہ 25 اکتوبر 1953ء بر موقع سالانہ اجتماع خدام الاحمد یہ بمقام ربوہ) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- میں کل تھوڑی دیر ہی بولا تھا لیکن گھر جاتے ہی میری طبیعت خراب ہو گئی اور سارا دن پسینے آتے رہے۔آج بھی گلے میں تکلیف ہے، کھانسی آرہی ہے، بخار ہے اور جسم ٹوٹ رہا ہے جس کی وجہ سے میں شاید کل جتنا بھی نہ بول سکوں لیکن چونکہ خدام الاحمدیہ کے اجتماع کا یہ آخری اجلاس ہے اس لئے چند منٹ کے لئے یہاں آگیا ہوں۔چند منٹ بات کر کے میں چلا جاؤں گا اور اس کے بعد باقی پر وگرام جاری رہے گا۔انسان دُنیا میں پیدا بھی ہوتے ہیں اور مرتے بھی ہیں کوئی انسان ایسا نہیں ہوا جو ہمیشہ زندہ رہا ہو لیکن قومیں اگر چاہیں تو وہ ہمیشہ زندہ رہ سکتی ہیں۔یہی اُمید دلانے کے لئے حضرت مسیح علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ :- میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسر امد دگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے “۔1 اس میں حضرت مسیح علیہ السلام نے لوگوں کو اسی نکتہ کی طرف توجہ دلائی تھی کہ چونکہ ہر انسان کے لئے موت مقدر ہے اس لئے میں بھی تم سے ایک دن جدا ہو جاؤں گا لیکن اگر تم چاہو تو تم ابد تک زندہ رہ سکتے ہو۔انسان اگر چاہے تو وہ زندہ نہیں رہ سکتا لیکن قو میں اگر چاہیں تو وہ زندہ رہ سکتی ہیں اور اگر وہ زندہ نہ رہنا چاہیں تو مر جاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی یہی فرمایا کہ:- تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور