انوارالعلوم (جلد 23) — Page 554
554 مسئلہ خلافت انوار العلوم جلد 23 اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت منقطع نہیں ہو گا اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک میں نہ جاؤں لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی"۔2 اس جگہ ہمیشہ کے یہی معنے ہیں کہ جب تک تم چاہو گے تم زندہ رہ سکو گے لیکن اگر تم سارے مل کر بھی چاہتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام زندہ رہتے تو زندہ نہیں رہ سکتے تھے ہاں اگر تم یہ چاہو کہ قدرت ثانیہ تم میں زندہ رہے تو زندہ رہ سکتی ہے۔قدرت ثانیہ کے دو مظاہر ہیں۔اول تائید الہی اور دوم خلافت۔اگر قوم چاہے اور اپنے آپ کو مستحق بنائے تو تائید الہی بھی اس کے شامل حال رہ سکتی ہے اور خلافت بھی اس میں زندہ رہ سکتی ہے۔خرابیاں ہمیشہ ذہنیت کے خراب ہونے سے پیدا ہوتی ہیں۔ذہنیت درست رہے تو کوئی وجہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کسی قوم کو چھوڑ دے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ یہی فرماتا ہے کہ إِنَّ اللهَ لَا يُخَيَّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيَّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ 3 یعنی اللہ تعالیٰ کبھی کسی قوم کے ساتھ اپنے سلوک میں تبدیلی نہیں کرتا جب تک کہ وہ خود اپنے دلوں میں خرابی پیدا نہ کر لے۔یہ چیز ایسی ہے جسے ہر شخص سمجھ سکتا ہے۔کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اس بات کو نہیں سمجھ سکتا۔کوئی جاہل سے جاہل انسان بھی ایسا نہیں ہو گا جسے میں یہ بات بتاؤں اور وہ کہے کہ میں اسے نہیں سمجھ سکا۔یا اگر ایک دفعہ سمجھانے پر نہ سمجھ سکے تو دوبارہ سمجھانے پر بھی وہ کہے کہ میں نہیں سمجھا لیکن اتنی سادہ سی بات بھی قو میں فراموش کر دیتی ہیں۔انسان کا مرنا تو ضروری ہے اگر وہ مر جائے تو اس پر کوئی الزام نہیں آتا لیکن قوم کے لئے مرناضروری نہیں۔قومیں اگر چاہیں تو وہ زندہ رہ سکتی ہیں لیکن وہ اپنی ہلاکت کے سامان خود پیدا کر لیتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ صحابہ کو ایک ایسی تعلیم دی تھی جس پر اگر ان کی آئندہ نسلیں عمل کرتیں تو ہمیشہ زندہ رہتیں لیکن قوم نے عمل چھوڑ دیا اور وہ مر گئی۔دُنیا یہ شخص