انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 516 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 516

انوار العلوم جلد 23 516 تحقیقاتی کمیشن کے سات سوالوں کے جوابات ”اب مسلمانوں کو چاہئے کہ ایسے دجال کذاب سے احتراز اختیار کریں۔۔۔۔۔اور نہ اس کے پیچھے اقتداء کریں اور نہ اُس کی نماز جنازہ پڑھیں “۔36 منکوحه و اسی طرح 1901ء میں مولانا عبد الاحد صاحب خانپوری لکھتے ہیں: جب طائفہ مرزائیہ امر تسر میں بہت خوار و ذلیل ہوئے جمعہ و جماعات سے نکالے گئے اور جس مسجد میں جمع ہو کر نمازیں پڑھتے تھے اس میں سے بے عزتی کے ساتھ بدر کئے گئے اور جہاں قیصری باغ میں نماز جمعہ پڑھتے تھے وہاں سے حکما روک دیئے گئے تو نہایت تنگ ہو کر مرزائے قادیان سے اجازت مانگی کہ مسجد نئی تیار کریں۔تب مرزانے ان کو کہا کہ صبر کرو! میں لوگوں سے صلح کرتا ہوں اگر صلح ہو گئی تو مسجد بنانے کی حاجت نہیں اور نیز اور بہت سی ذلتیں اُٹھا ئیں معاملہ وبر تاؤ مسلمان سے بند ہو گیا۔عور تیں بوجہ مرزائیت کے چھن گئیں۔مُردے ان کے بے تجہیز و تکفین اور بے جنازہ گڑھوں میں دبائے گئے “۔37 اس حوالہ سے صاف ظاہر ہے کہ احمدیوں نے مسجدیں نہیں چھوڑیں بلکہ ان کو مسجدوں سے نکالا گیا، احمدیوں نے نکاح سے نہیں روکا بلکہ ان کے نکاح توڑے گئے، احمدیوں نے جنازہ سے نہیں روکا بلکہ ان کو جنازہ سے باز رکھا گیا لیکن باوجود اس کے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے آخری کوشش یہی کی کہ باقی مسلمانوں سے صلح ہو جائے لیکن جب باوجود ان تمام کوششوں کے ناکامی ہوئی تو جیسا کہ مولوی عبد الاحد صاحب کی مندرجہ بالا عبارت میں اقرار کیا گیا ہے تب بامر مجبوری فتنے سے بچنے کے لئے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق جوابی کارروائی کرنی پڑی۔پھر اس سلسلہ میں یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ دیگر فرقوں نے بھی ایک دوسرے فرقہ والوں کے جنازہ کی حرمت و امتناع کے فتوے دیئے ہیں۔