انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 425

انوار العلوم جلد 23 425 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ 1900ء میں رکھا گیا) بھی نہیں رکھا گیا تھا۔نمازوں اور جنازوں میں بھی علیحد گی واقع نہیں ہوئی تھی اس کتاب کے ضمیمہ میں اس سال جلسہ سالانہ قادیان میں باہر سے شامل ہونے والوں کی تعداد تین سو میں لکھی ہے اور اُس وقت زیادہ سے زیادہ دو تین ہزار آدمی آپ کو ماننے والے تھے۔اگر مجلس عمل کا ترجمہ درست مانا جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ آپ کو ماننے والوں کے سوا تمام لوگ ذریۃ البغایا ہیں اور وہ آپ کو ہر گز نہیں مانیں گے۔ظاہر ہے کہ یہ مفہوم بالبداہت غلط اور باطل ہے۔کیونکہ آپ کے ماننے والوں کی تعداد 1893ء کے بعد ہی بڑھی اور بڑھتے بڑھتے لکھو کھہا تک پہنچ گئی۔پس پیش کر دہ ترجمہ یقینا غلط ہے۔4- ایک اور ثبوت اس عمل کا کہ محولہ عبارت میں عام غیر احمدی مسلمان مراد نہیں ہیں، یہ ہے کہ اسی کتاب کے صفحہ 530 پر (مجلس عمل کی پیش کردہ عبارت سے چند صفحات پہلے) حضرت بانی جماعت احمدیہ نے ملکہ وکٹوریہ آنجہانی کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتے ہوئے عام مسلمانوں کا ذکر ان الفاظ میں فرمایا ہے:۔سلطنت ”اے قیصرہ محترمہ آنچه انجام کار و اہم جمیع امور مے خواہم۔نصحاً در خدمت به تقدیم رسانم آنست که مسلماناں عضد خاص و جناح دولت تو می باشند و نیز آنها را در ملک تو خصوصیت ممتازی و حلیلی است که از نظر دور بینت پوشیده نیست۔باید در آنها مخصوصاً به نظر مرحمت و شفقت و لطف فوق العادت نگا ہے بکنی و راحت و آرام و تالیف قلوب آنها را نصب عین صحت خود سازی و بسیاری را از آنها بر منازلِ عالیه و مدارج قرب مشرف و سر فراز بفرمائی۔آنچه من بینم۔تفضیل و تخصیص و ترجیح آنها بر جمیع اقوام از لوازمات و منبع مصالح و برکات است۔خدا را دلِ مسلماناں را خوش و کشت امید آنهارا سر سبز بکن زیرا که حق تعالیٰ ترانزولِ اجلال در زمین آنها مرحمت فرموده و مالک ملک گردانیدہ کہ مسلماناں قریب ہزار سال عنانِ امر و ہیں و نهمیش