انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 407

انوار العلوم جلد 23 407 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں اور اُن دلیلوں سے جو ہم آئندہ بیان کریں گے اور بھی روشن ہو جائے گا کہ اسلام پر غیر مسلموں کا یہ الزام جھوٹ اور افتراء ہے“۔اسی طرح فرماتے ہیں:۔”وہ تفصیل جو ہم نے اوپر لکھی ہے اس سے یہ ثابت ہو چکا ہے پر کہ جہاد بالسیف کے مسئلہ میں مسلمانوں کا اجماع صرف اس بات پر ہے کہ جب مسلمانوں پر کوئی قوم حملہ کرے تو یہ جہاد فرض ہوتا ہے اور اُس وقت بھی اسی صورت میں فرض ہوتا ہے کہ جب کہ امام واجب الطاعت جنگ عام کا حکم دے لیکن اگر وہ صرف کچھ لوگوں کو اس لڑائی کا محکم دے تو پھر انہی لوگوں پر یہ جنگ فرض ہو گی باقی لوگوں پر یہ جنگ فرض نہیں ہو گی“۔365 مولانا ظفر علی خاں صاحب ایڈیٹر ”زمیندار“ تو یہاں تک لکھتے ہیں کہ :- اگر خدانخواستہ گورنمنٹ انگلشیہ کی کسی مسلمان طاقت سے ان بن ہو جائے تو ایسی حالت میں مسلمانوں کو اسی طرح سرکار کی جلتی آگ میں کود کر اپنی عقیدت مندی کا ثبوت دینا چاہئے جس طرح سرحدی علاقہ اور سمالی لینڈ کی لڑائیوں میں مسلمان فوجی سپاہیوں نے اپنے مذہبی اور قومی بھائیوں کے خلاف جنگ کر کے اس بات کا بارہا ثبوت دیا ہے کہ اطاعت اولی الامر کے حکم کے وہ کیس درجہ پابند ہیں۔مسلمانوں کا سر پھرا ہوا نہیں ہے کہ وہ اس مہربان و عادل گور نمنٹ 366" سے سرکشی اختیار کریں۔266 جہاد قیامت تک کے لئے ہے غرض بانی سلسلہ احمدیہ نے نہ تو جہاد کے اسلامی حکم کو منسوخ کیا ہے اور نہ ملتوی کیا ہے بلکہ اُس جہاد کو منسوخ کیا ہے جو اسلامی تعلیم کے خلاف موجودہ زمانہ کے علماء نے