انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 398 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 398

انوار العلوم جلد 23 398 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اور اس کا نام جہاد رکھا۔غرض حق تلفی کی ایک راہ عیسائیوں نے اختیار کی اور دوسری راہ حق تلفی کی مسلمانوں نے اختیار کرلی اور اس زمانہ کی بدقسمتی سے یہ دونوں گروہ ان دونوں قسم کی حق تلفیوں کو ایسا پسندیدہ طریق خیال کرتے ہیں کہ ہر ایک گروہ جو اپنے عقیدہ کے موافق اِن دونوں قسموں میں سے کسی قسم کی حق تلفی پر زور دے رہا ہے وہ یہ سمجھ رہا ہے کہ گویا وہ اس سے سیدھا بہشت کو جائے گا اور اس سے بڑھ کر کوئی بھی ذریعہ بہشت کا نہیں اور اگر چہ خدا کی حق تلفی کا گناہ سب گناہوں سے بڑھ کر ہے لیکن اس جگہ ہمارا یہ مقصود نہیں ہے کہ اُس خطر ناک حق تلفی کا ذکر کریں جس کی عیسائی قوم مر تکب ہے بلکہ ہم اس جگہ مسلمانوں کو اُس حق تلفی پر متنبہ کرنا چاہتے ہیں جو بنی نوع کی نسبت اُن سے سرزد ہو رہی ہے۔پھر فرماتے ہیں:۔وو 348" یہ خیال اُن کا ہر گز صحیح نہیں ہے کہ جب پہلے زمانہ میں جہاد روار کھا گیا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ آب حرام ہو جائے۔اس کے ہمارے پاس دو جواب ہیں۔ایک یہ کہ یہ خیال قیاس مع الفارق ہے۔یعنی دلیل کی بنیاد ایسی چیز پر قائم کی گئی ہے جس کا اس سے جوڑ نہیں ہے۔اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر گز کسی پر تلوار نہیں اُٹھائی بجز اُن لوگوں کے جنہوں نے پہلے تلوار اُٹھائی اور سخت بے رحمی سے بے گناہ اور پر ہیز گار مردوں اور عورتوں اور بچوں کو قتل کیا اور ایسے درد انگیز طریقوں سے مارا کہ اب بھی ان قصوں کو پڑھ کر رونا آتا ہے۔دوسرے یہ کہ اگر فرض بھی کر لیں کہ اسلام میں ایسا ہی جہاد تھا جیسا کہ ان مولویوں کا خیال ہے تاہم اس زمانہ میں وہ محکم قائم نہیں رہا کیونکہ لکھا ہے کہ جب مسیح موعود ظاہر ہو جائے گا تو سیفی جہاد اور