انوارالعلوم (جلد 23) — Page 399
انوار العلوم جلد 23 399 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ مذہبی جنگوں کا خاتمہ ہو جائے گا کیونکہ مسیح نہ تلوار اُٹھائے گا اور نہ کوئی اور زمینی ہتھیار ہاتھ میں پکڑے گا بلکہ اُس کی دُعا اُس کا حربہ ہو گا اور اُس کی عقدِ ہمت اُس کی تلوار ہو گی۔وہ صلح کی بنیاد ڈالے گا اور بکری اور شیر کو ایک ہی گھاٹ پر اکٹھے کرے گا اور اُس کا زمانہ صلح اور نرمی اور انسانی ہمدردی کا زمانہ ہو گا۔ہائے افسوس کیوں یہ لوگ غور نہیں کرتے کہ تیرہ سو برس ہوئے کہ مسیح موعود کی شان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے کلمہ يَضَعُ الْحَرْب جاری ہو چکا ہے۔جس کے یہ معنے ہیں کہ مسیح موعود جب آئے گا تو لڑائیوں کا خاتمہ کر دے گا“۔349 پھر لکھتے ہیں :- ”جب کہ مسلمانوں کے پاس صبر اور ترک شر اور اخلاق فاضلہ کا یہ نمونہ ہے جس سے تمام دُنیا پر اُن کو فخر ہے تو یہ کیسی نادانی اور بد بختی اور شامت اعمال ہے جو اب بالکل اس نمونہ کو چھوڑ دیا گیا ہے۔جاہل مولویوں نے خدا اُن کو ہدایت دے عوام کا لانعام کو بڑے دھو کے دئے ہیں اور بہشت کی کنجی اسی عمل کو قرار دے دیا ہے جو صریح ظلم اور بے رحمی اور انسانی اخلاق کے بر خلاف ہے۔کیا یہ نیک کام ہو سکتا ہے کہ ایک شخص مثلاً اپنے خیال میں بازار میں چلا جاتا ہے اور ہم اس قدر اُس سے بے تعلق ہیں کہ نام تک بھی نہیں جانتے اور نہ وہ ہمیں جانتا ہے مگر تاہم ہم نے اُس کے قتل کرنے کے ارادہ سے ایک پستول اُس پر چھوڑ دیا ہے۔کیا یہی دینداری ہے ؟ اگر یہ کچھ نیکی کا کام ہے تو پھر درندے ایسی نیکی کے بجالانے میں انسانوں سے بڑھ کر ہیں۔سُبحان اللہ وہ لوگ کیسے راستباز اور نبیوں کی رُوح اپنے اندر رکھتے تھے کہ جب خدا نے مکہ میں اُن کو یہ حکم دیا کہ بدی کا مقابلہ مت کروا گرچہ ٹکڑے ٹکڑے کئے جاؤ۔پس وہ اس حکم کو پا کر شیر خوار