انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 328

انوار العلوم جلد 23 328 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ بگڑ جائیں۔پھر آپ سیدھے صحابہ کے اجتماع میں گئے اور لوگوں سے کہا کہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔حضرت عمررؓ تلوار لئے کھڑے تھے اور یہ ارادہ کر کے کھڑے تھے کہ اگر کسی نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا اعلان کیا تو میں اُس کو قتل کر دوں گا۔حضرت ابو بکر کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا۔اے لوگو! "مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ حَقٌّ لَا يَمُوْتُ“۔جو شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا وہ سُن لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو چکے ہیں اور جو کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کر تا تھاوہ خوش ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اور کبھی فوت نہیں ہو گا۔پھر فرمایا وَ مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولُ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَأَبِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُم محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف اللہ تعالیٰ کے ایک رسول تھے اور آپ سے پہلے جتنے رسول گزرے ہیں سب فوت ہو چکے ہیں۔پھر آپ کیوں نہ فوت ہوں گے۔اگر آپ فوت ہو جائیں یا قتل کئے جائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے اور اسلام کو چھوڑ دو گے۔حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ جب قرآنِ کریم کی آیت حضرت ابو بکر صدیق نے پڑھی تو میری آنکھیں کھل گئیں اور مجھے یوں معلوم ہوا کہ یہ آیت ابھی نازل ہوئی ہے اور مجھ پر ظاہر ہو گیا کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں اور میرے پاؤں کانپ گئے اور میں زمین پر گر گیا۔205 یہ ایک ہی اجماع صحابہ کا ہے۔کیونکہ اُس وقت سارے صحابہ موجود تھے اور در حقیقت ایسا وقت مسلمانوں پر پہلے کبھی نہیں آیا کیونکہ پھر کبھی مسلمان اس طرح جمع نہیں ہوئے۔اس اجتماع میں حضرت ابو بکر نے یہ آیت پڑھی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اللہ تعالیٰ کے ایک رسول ہیں اور آپ سے پہلے جس قدر اللہ تعالیٰ کے رسول آئے ہیں وہ سب کے سب فوت ہو چکے ہیں۔پس آپ کا فوت ہونا بھی کوئی قابل تعجب بات نہیں اور سارے کے سارے صحابہ نے آپ کے ساتھ اتفاق کیا۔حضرت عمر جو پہلے مخالف تھے اس آیت کو سُن کر وہ بھی موافق ہو گئے۔اگر واقع میں