انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 302

انوار العلوم جلد 23 302 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ مقرر کیا ہوا تھا۔ایک دن میں قرآن کریم پڑھا رہا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پاس سے گزرے۔اس وقت میں خاتم النبیین کی آیت پڑھارہا تھا۔اس پر آپ نے فرمایا اللہ تجھے توفیق دے۔تو میرے بچوں کو خاتم النبیین ت کی زبر سے پڑھا۔156 اس سے ظاہر ہے کہ خاتم النبیین میں ت کی زیر سے یہ شبہ پیدا ہو تا تھا کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ سب قسم کے نبی ختم ہو گئے۔پس گو یہ قراءت موجود ہے مگر حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے یہ پسند نہ کیا کہ اُن کے بیٹے اِس دھوکے میں پڑ جائیں کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی قسم کا نبی بھی نہیں آئے گا اور انہوں نے اپنے بیٹوں کے اُستاد کو منع کر دیا کہ انہیں خاتم ت کی زیر سے نہ پڑھاؤ بلکہ حائم ت کی زبر سے پڑھاؤ۔حضرت شیخ محی الدین ابن عربی "جو ساتویں صدی ہجری کے شروع میں گزرے ہیں اپنی کتاب فتوحات مکیہ جلد 2 باب 73 صفحہ 3 میں لکھتے ہیں کہ وہ نبوت جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہر ہونے سے ختم ہو گئی ہے وہ تشریعی نبوت ہے۔اس کا دُنیا میں کوئی مقام نہیں۔پس آب کوئی شریعت ایسی نہیں ہو گی جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو موقوف کرے اور کوئی شریعت ایسی نہیں ہو گی جو آپ کی شریعت میں کوئی حکم زائد کرے۔اور یہی معنے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے ہیں کہ رسالت اور نبوت منقطع ہو چکی ہے پس میرے بعد اب کوئی رسول اور نبی نہیں ہے۔یعنی کوئی ایسا نبی میرے بعد نہیں جو کسی ایسی شریعت پر قائم ہو جو میری شریعت کے مخالف ہے بلکہ جب کوئی نبی ہو گا تو وہ میری شریعت کے حکم کے ماتحت ہو گا اور کوئی رسول میرے بعد نہیں ہو گا۔یعنی کوئی شخص مخلوق اللہ میں ایسا نہیں ہو گا جو کوئی نئی شرع لائے اور اُس کی طرف لوگوں کو بلائے۔یہی وہ چیز ہے جو ختم ہوئی ہے اور جس کا دروازہ بند ہوا ہے نہ کہ نبوت کا مقام بند ہوا ہے۔اسی طرح حضرت محی الدین ابن عربی لکھتے ہیں کہ جب عیسی علیہ السلام دوبارہ نازل ہوں گے تو وہ نبوت مستقلہ کے ساتھ نہیں اتریں گے بلکہ وہ نبوت مطلقہ والے ولی ہو کر اُتریں گے اور یہ وہ نبوت ہے جس میں محمد ی اولیاء بھی اُن کے ساتھ شریک ہیں۔157