انوارالعلوم (جلد 23) — Page 267
انوار العلوم جلد 23 267 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال اس سلسلہ میں ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کا ذکر بھی ضروری ہے کیونکہ اگر چہ یہ درست ہے کہ ڈاکٹر صاحب موصوف نے اپنی وفات کے قریب (1933،34ء کے بعد) احمدیت کی مخالفت کی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس سے پہلے وہ تمام عمر احمدیت کے مذاح اور مؤید رہے۔(الف) عدالت کے سامنے خواجہ نذیر احمد صاحب کے بیان اور مولانا غلام محی الدین صاحب قصوری کی تصدیق سے یہ ثابت ہے کہ ڈاکٹر صاحب موصوف نے اپنے والد صاحب کے ہمراہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔(ب) ڈاکٹر صاحب موصوف نے سعد اللہ کو مسلم لدھیانوی کی ایک نہایت گندی اور فحش نظم کے جواب میں (جو اُس نے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی ہجو میں لکھی تھی) ایک نظم لکھی تھی جو کتاب ” آئینہ حق نما“ میں شائع ہو چکی ہے جو عدالت کے سامنے پڑھی جاچکی ہے۔(ج) ڈاکٹر صاحب موصوف اپنے مشہور لیکچر ” ملت بیضا پر ایک عمرانی نظر “ میں (جو آپ نے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی وفات کے دو سال بعد ۱۹۱۰ء میں آسٹریحی ہال ایم۔او کالج علیگڑھ میں بزبان انگریزی دیا تھا اور مولانا ظفر علی خان صاحب نے جس کا ترجمہ مئی ۱۹۱۱ء میں خود ڈاکٹر سر محمد اقبال کی موجودگی میں برکت علی محمدن ہال لاہور کے ایک عظیم الشان جلسہ کے سامنے پڑھ کر سنایا تھا) فرماتے ہیں: ” میری رائے میں قومی سیرت کا وہ اسلوب جس کا ایہ عالمگیر کی ذات نے ڈالا ہے ٹھیٹھ اسلامی سیرت کا نمونہ ہے اور ہماری تعلیم کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ اس نمونہ کو ترقی دی جائے اور مسلمان ہر وقت اُسے پیش نظر رکھیں۔۔۔۔۔۔پنجاب میں اسلامی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ اُس جماعت کی شکل میں ظاہر ہوا ہے