انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 268

انوار العلوم جلد 23 268 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ جسے فرقہ قادیانی کہتے ہیں“۔79 ڈاکٹر صاحب موصوف کا 1910ء میں یہ اظہارِ خیال بتاتا ہے کہ آج جو یہ بات کہی گئی ہے کہ احمدیت کی تعلیم اور نبوت کے بارے میں نظر یہ بذات خود مسلمانوں کے لئے طبعی طور پر اشتعال انگیز تھا ایک بے بنیاد اور بے حقیقت الزام ہے۔اس ضمن میں ہم مفکر احرار مفکر احرار چوہدری افضل حق صاحب چوہدری افضل حق صاحب مرحوم کا ایک مضمون بھی معزز عدالت کے ملاحظہ کے لئے نقل کرتے ہیں۔اگر چہ یہ درست ہے کہ ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کی طرح چوہدری افضل حق صاحب نے بھی بعد میں بعض سیاسی وجوہ کی بناء پر احمدیت کی مخالفت کی لیکن اُن کا یہ ابتدائی اظہارِ خیال پورے طور پر اس الزام کی تردید کرتا ہے کہ احمدیت کی تعلیم مسلمانوں کے لئے بذات خود طبعی طور پر اشتعال انگیز ہے۔چوہدری افضل حق صاحب اپنی کتاب موسومه به فتنہ ارتداد اور پولیٹیکل قلابازیاں “ میں تحریر فرماتے ہیں:۔آریہ سماج کے معرض وجود میں آنے سے پیشتر اسلام جسدِ بے جان تھا جس میں تبلیغی جس مفقود ہو چکی تھی۔سوامی دیانند کی مذہب اسلام کے متعلق بدظنی نے مسلمانوں کو تھوڑی دیر کے لئے چوکنا کر دیا مگر حسب معمول جلدی خواب گراں طاری ہو گئی۔مسلمانوں کے دیگر فرقوں میں تو کوئی جماعت تبلیغی اغراض کے لئے پیدا نہ ہو سکی۔ہاں ایک دل مسلمانوں کی غفلت سے مضطرب ہو کر اُٹھا۔ایک مختصر سی جماعت اپنے گرد جمع کر کے اسلام کی نشر واشاعت کے لئے بڑھا۔اگر چہ مرزا غلام احمد صاحب کا دامن فرقہ بندی کے داغ سے پاک نہ ہوا تاہم اپنی جماعت میں وہ اشاعتی تڑپ پیدا کر گیا جو نہ صرف مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے لئے قابل تقلید ہے بلکہ دُنیا کی تمام اشاعتی جماعتوں کے لئے نمونہ ہے“۔80