انوارالعلوم (جلد 23) — Page 252
انوار العلوم جلد 23 252 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ کے ذریعہ سے تمام وہ باتیں جن کی بُرائی فطرت پر گراں ہے خواہ وہ نمایاں طور پر بُری ہوں یا اُن کی بُرائی کسی قدر مخفی ہو اُن سب کو حرام کر دیا ہے اور اسی طرح اُس نے انتہائی درجہ کے گناہوں کو بھی حرام کر دیا ہے اور ایک دوسرے پر ظلم کو بھی حرام کر دیا ہے جو بغیر کسی قانونی یا اخلاقی وجہ کے ہو۔اور اس سے بھی اُس نے منع کیا ہے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کا کسی کو شریک بنائے جس کے لئے کوئی آسمانی دلیل موجود نہیں۔اور اس سے بھی اُس نے منع فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کے متعلق کوئی ایسی بات کہو جس کو تم نہیں جانتے۔اور اے لوگو! ہر قوم کے لئے ایک وقت مقرر ہے جب وہ وقت آتا ہے تو وہ ایک گھڑی بھی مقررہ میعاد سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے اور ایک گھڑی بھی اُس مقررہ میعاد سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔اے آدم کی اولاد! اگر تمہاری طرف کوئی رسول آئیں جو تمہیں میرے نشانات پڑھ کر سنائیں تو یاد رکھو کہ جو کوئی تقویٰ اختیار کرے گا اور اصلاح کو مد نظر رکھے گا تو ایسے لوگوں کو نہ آئندہ کسی قسم کا خوف ہو گا اور نہ گزشتہ غلطیوں پر کسی قسم کا غم : پہنے گا۔یہ آیت قطعی طور پر مسلمانوں کے متعلق ہے۔اس سے پہلے کی آیتیں بھی اور بعد کی آیتیں بھی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اُمت کے متعلق ہیں اور اس آیت میں صاف کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کی خرابی کے وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسے انسان کھڑے کئے جاتے رہیں گے جو اُن کو خدا تعالیٰ کی باتیں بنائیں گے اور خدا تعالیٰ کی طرف واپس لانے کی کوشش کریں گے۔جو لوگ اُن کی باتوں پر کان دھریں گے اور فساد اور فتنہ کی باتوں کو ترک کریں گے اور تقویٰ اور اصلاح کے رستوں کو اختیار کریں گے اُن کے لئے خدا کی طرف سے برکتیں اور رحمتیں ہوں گی اور خدا اُن کا خود محافظ ہو گا۔اسی کی تصدیق میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّ دَلَهَا دِيْنَهَا - 58 الله تعالیٰ اِس اُمت میں ہر صدی کے سر پر ایسا آدمی مبعوث کرے گا جو اُمت کی خاطر اور اُس کے فائدہ کے لئے اور اُس کے دین کو پھر نئے سرے سے اُجاگر اور روشن اور غلطیوں سے پاک کر دے گا۔