انوارالعلوم (جلد 23) — Page 166
انوار العلوم جلد 23 166 تعلق باللہ دشمنوں کو علم تک نہیں ہوتا کہ میں کس حال میں ہوں اُس وقت تو مجھے جگاتا ہے اور محبت اور پیار سے فرماتا ہے کہ غم نہ کھا میں تیرے ساتھ ہوں تو پھر اے میرے مولیٰ! یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس احسان کے ہوتے ہوئے پھر میں تجھے چھوڑ دوں۔ہر گز نہیں۔ہر گز نہیں " 66 و دیکھو سوتے وقت جب انسان کا جسم اور روح بھی اُسے ایک طرح چھوڑ جاتے ہیں اُس وقت بھی خدا تعالیٰ اپنے بندے کو نہیں چھوڑتا۔اس لئے خدا تعالیٰ کا مقامِ خُلة انسان کے مقام خلة سے بہت بالا ہے۔نام دونوں محبتوں کا ایک ہے مگر دونوں کی کیفیت میں بہت فرق ہے۔پس محبت کے تمام مقاموں میں سے جو ادنیٰ ہیں وہ صرف انسان سے مخصوص ہیں۔خدا تعالیٰ اُن کے مقابل پر اُن سے اعلیٰ مقام کی محبت دکھاتا ہے اور جو اعلیٰ مقام ہیں اور بندہ اور خدا میں مشترک ہیں اُن میں بھی اللہ تعالیٰ ہمیشہ بندے سے آگے رہتا ہے۔اسی نکتہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک حدیث میں یوں بیان فرماتے ہیں : عَنْ آبی هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا عِنْدَ ظَنِ عَبْدِىٰ بِي وَأَنَا مَعَهُ حَيْثُ يَذْكُرَنِي وَاللَّهِ لِلَّهِ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ يَجِدُ ضَالَتَهُ بِالْفُلَاةِ وَمَنْ تَقَرَبَ إِلَى شِبْرً ا تَقَرَبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا وَمَنْ تَقَرَبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا وَإِذَا أَقْبَلَ إِلَى يَمْشِي أَقْبَلْتُ اِلَيْهِ أَهَزِوِلُ 7 حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔خدا نے مجھے الہام سے فرمایا ہے کہ میں اپنے بندے کے یقین کے مطابق اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہوں اور جب کبھی بندہ مجھے یاد کرتا ہے میں فوراً اُس کے پاس پہنچ جاتا ہوں۔پھر اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے خدا کی قسم ہے! کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کی توبہ پر اس شخص سے زیادہ خوشی محسوس کرتا ہے جس نے سخت جنگل میں اپنی اونٹنی کھوئی اور پھر وہ اُسے مل گئی۔اس کے بعد فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ جو شخص میرے پاس ایک بالشت بھر چل کر آتا ہے میں اُس کے