انوارالعلوم (جلد 23) — Page 167
انوار العلوم جلد 23 167 تعلق باللہ پاس ایک ہاتھ چل کر آتا ہوں۔( ذراع اُنگلیوں سے لے کر کہنی تک کے حصہ کو کہتے ہیں) اور جو شخص ایک ہاتھ چل کر میرے پاس آتا ہے میں اُس کی طرف ایک باع ( یعنی دونوں بازوؤں کے پھیلاؤ کے برابر ) چل کر جاتا ہوں۔اور جب بندہ میرے پاس چلتے ہوئے آتا ہے تو اقبلتُ اِلَيْهِ اهَرُ وِل میں اُس کی طرف دوڑنا شروع کر دیتا ہوں۔غرض ہر مقام پر اللہ تعالیٰ بندے سے اونچے مقام پر رہتا ہے بندہ ایک بالشت چلتا ہے تو خدا تعالیٰ ایک ہاتھ چلتا ہے۔بندہ ایک ہاتھ چلتا ہے تو خدا تعالیٰ ایک باع چل کر آتا ہے۔بندہ اس کی طرف چل پڑتا ہے تو خدا تعالیٰ اپنی محبت کے جوش میں اُس کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔اب میں یہ بتاتا ہوں کہ جہاں اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ بندہ جس جس حد تک کام کرے اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ کام کرتا ہے وہاں اُس نے محبت کے کچھ قانون بھی بنائے ہیں جب کوئی شخص محبت الہی کے میدان میں قدم رکھنا چاہے تو اُسے ان قانونوں کو مد نظر رکھنا چاہیے چنانچہ پہلا قانون یہ ہے کہ جب بندہ رغبت ، انس اور وڈ کے مقام سے ترقی کر کے حُب کے مقام پر پہنچ جاتا ہے تو اس مقام کے لئے یہ شرط ہے کہ قُل اِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَ ابْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسْكِنْ تَرْضَوْنَهَا اَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنَ اللهِ وَ رَسُولِهِ وَجِهَادِ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفُسِقِینَ یعنی رغبت کے مقام تک اگر انسان میں کمزوری ہو اور بیوی بچوں کی محبت اُس کے دل پر غالب ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی پرواہ نہیں کرتا۔سمجھتا ہے کہ یہ کمزور ہے۔ایسا مضبوط نہیں کہ اس جذبہ پر غالب آسکے۔جب انسان انس کے مقام پر آتا ہے تو وہ زیادہ قربانیاں چاہتا ہے مگر یہ نہیں چاہتا کہ وہ سب کچھ بھول جائے۔جب انسان وڈ کے مقام پر آتا ہے تو وہ اپنے بندہ سے انس کے مقام سے بھی زیادہ قربانیوں کا تقاضا کرتا ہے مگر پھر بھی اُس کی کمزوریوں کا خیال رکھتا ہے لیکن جب وہ حُب کے مقام پر پہنچ جائے تو چونکہ اب ترقی کرتے کرتے محبت کے بہت سے اسرار اُس پر کھل چکے ہوتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ بھی چاہتا ہے کہ اب بندہ یہ فیصلہ ر رلے کہ میں نے خدا تعالیٰ کی محبت کے مقابلہ میں کسی اور کو منہ نہیں لگانا۔یہی وجہ ہے