انوارالعلوم (جلد 23) — Page 102
انوار العلوم جلد 23 102 حضرت اماں جان کے وجود گرامی کی اہمیت ، تعمیر ربوہ اور پیش کر دیں۔پنشنر کو تو دوبارہ ملازمت کرنا گناہ سمجھنا چاہئے۔کیونکہ وہ اب اس قابل ہو چُکا ہے کہ دین کی خدمت میں لگا رہے۔جن کو اس سے زیادہ توفیق ملتی ہے وہ اپنی زندگیاں سلسلہ کی خدمت کے لئے وقف کریں۔پہلے یہ سلسلہ شروع ہوا تھا لیکن درمیان میں رُک گیا۔اب پھر دیکھتا ہوں کہ کچھ دنوں سے ایک رو چلی ہے بعض خطوط آئے ہیں جن میں بعض لوگوں کی طرف سے لکھا گیا ہے کہ ہم اپنی زندگی دین کی خدمت کے لئے پیش کرتے ہیں۔درمیان میں بھاگنے کی رو زیادہ تھی اور میں نے بھی ڈھیل دے دی تھی کہ اچھا بھا گنا ہے تو بھاگ جاؤ۔حالانکہ دین کے لئے زندگی پیش کرنے کے یہی معنی ہوتے ہیں کہ کوئی شخص اپنی ساری زندگی دین کو دے دیتا ہے اور اسے اس پر اختیار نہیں رہتا۔تم یہی کہو گے کہ اس نے زندگی تباہ کر دی لیکن کیا دوسری قوموں نے ملک کی خاطر اور قوم کی خاطر اپنی زندگیاں پیش نہیں کیں۔کیا پچھلی جنگ کے موقع پر لاکھوں جرمنوں، انگریزوں، امریکیوں اور فرانسیسیوں نے اپنی جانیں پیش نہیں کی تھیں۔تم میں سے دس بیس نے اگر دین کی خاطر اپنی زندگیاں پیش کر دیں تو تمہیں ان پر کوئی زائد فضیلت حاصل نہیں ہو گی۔یہی چیز ان میں بھی پائی جاتی ہے۔انہوں نے بھی اپنی زندگیاں قوم اور ملک کو دیں اور تم نے بھی اپنی زندگیاں دین کی خاطر دیں۔پس نوجوانوں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنی زندگیاں وقف کریں تاکہ ان کی خدمات دین کے لئے غیر مطبوعہ مواد از ریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ) احرار کا فتنہ اس سال احراریوں نے جماعت احمدیہ کے خلاف جو فتنہ برپا کیا حضور نے اس کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ فتنہ گزشتہ دو سال سے مفید ہوں"۔جاری تھا مگر اس سال اس نے خاص شدت اختیار کر لی تھی کیونکہ ملک کے بعض عناصر نے اپنی اپنی سیاسی اور ذاتی اغراض کے ماتحت احراریوں سے جوڑ توڑ کرنے اور انہیں ملک میں نمایاں کرنے کی کوشش کی۔احمدیت کی مخالفت اور اسی طرح چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کی مخالفت تو محض ایک آڑ تھی ورنہ اصل مقصد در پردہ اپنی سیاسی اغراض حاصل کرنا تھا۔اس ایجی ٹیشن کی ابتدا تو انہی عناصر نے کی جو ہمیشہ پاکستان کے اور