انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 103

انوار العلوم جلد 23 103 حضرت اماں جان کے وجود گرامی کی اہمیت، تعمیر ربوہ اور۔۔مسلم لیگ کے مخالف رہے ہیں، مگر جب انہوں نے دیکھا کہ اس طرح کام نہیں بنتا تو آہستہ آہستہ ایسے مولویوں کو بھی اپنے ساتھ ملانا شروع کیا جو بظاہر مسلم لیگ کے مخالف نہ تھے اور غیر جانبدار سمجھے جاتے تھے مگر اپنی اغراض کے ماتحت آگے آنا چاہتے تھے۔چنانچہ مختلف گروہوں میں سے ایسے ہی لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر اس کا نام مسلمانوں کا متفقہ فیصلہ رکھ دیا گیا اور تحفظ ختم نبوت کے نام سے ایجی ٹیشن شروع کر دی گئی۔حالانکہ جاننے والے جانتے ہیں کہ بھلا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ختم نبوت کی حفاظت کے لئے ان لوگوں کی مدد کی کیا ضرورت ہے۔ان کی ختم نبوت کا محافظ تو خود اللہ تعالیٰ ہے اور ختم نبوت کا جو مفہوم جماعت احمد یہ بیان کرتی ہے وہی مفہوم صحابہ کرام اور اُمت کے بہت سے بزرگوں نے بیان کیا۔پھر یہ مفہوم جماعت احمدیہ نے آج پیش نہیں کیا بلکہ ساٹھ سال سے پیش کر رہی ہے۔پس آج کوئی بھی ایسی نئی بات اس مسئلہ کے متعلق پیدا نہ ہوئی تھی جسے اس ہنگامہ اور ایجی ٹیشن کی وجہ قرار دیا جا سکے۔بہر حال یہ ایجی ٹیشن اشتعال انگیزی اور جھوٹے پروپیگنڈا کے ساتھ بڑھتی چلی گئی۔حتی کہ حکومت کے بعض ذمہ دار افراد بھی ایک حد تک اس سے متاثر ہو گئے کیونکہ وہ اصل حالات سے ناواقف تھے۔ذمہ دار افراد پر اظہار حقیقت جہاں اس فتنے نے ہماری جماعت کے لئے نئی نئی مشکلات پیدا کیں اور انفرادی طور بعض احمدیوں کو نقصان بھی اُٹھانا پڑا وہاں اس کے بعض فوائد بھی ہمیں اللہ تعالیٰ کے ضل سے حاصل ہوئے۔چنانچہ ایک فائدہ تو یہ ہوا کہ ملک کے جن ذمہ دار افراد کو جھوٹے الزامات کے ذریعے جماعت احمدیہ سے بدظن کیا جارہا تھا ہمیں بھی انہیں سمجھانے کا اور اصل حقیقت واضح کرنے کا موقع ملا۔چنانچہ ان میں سے بعض نے بعد میں بر ملا کہا کہ ہم تو یہ سمجھتے تھے احمدی اسلام کا اور قرآن مجید کا انکار کرتے ہیں لیکن اب ہمیں معلوم ہو گیا ہے کہ یہ غلط ہے۔احمدی بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اور قرآن مجید پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کا دیگر مسلمانوں کے ساتھ جو اعتقادی اختلاف۔