انوارالعلوم (جلد 23) — Page 97
انوار العلوم جلد 23 اللہ 97 حضرت اماں جان کے وجود گرامی کی اہمیت، تعمیر ربوہ اور تعالیٰ نے تم پر انہیں سو روپے جرمانہ کیا ہے۔مگر جو لوگ بیچ رہے ہیں۔اس میں کوئی نہیں کہ ان میں سے بعض معذور ہیں اور معذوری کی وجہ سے وہ زمین بیچ رہے ہیں لیکن کئی لوگ ایسے ہیں جو صرف دو ہزار روپیہ کے لالچ کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں۔مجھے ایک قصہ یاد آ گیا۔کوئی ماسٹر تھے وہ کہیں ملازم تھے دس بیس سال تک گھر نہ آئے اُن کی بیوی نے انہیں لکھا کہ تم اپنی ان بیٹیوں کا تو خیال کرو۔میری زندگی تو بر باد ہوئی ان کی زندگی تو برباد نہ کرو۔ان کے دوستوں نے بھی انہیں مشورہ دیا کہ وہ گاؤں ضرور جائیں۔چنانچہ وہ گاؤں جانے کے لئے تیار ہو گئے۔دس بیس میل پر ان کا گاؤں تھا۔انہوں نے رتھ والے کو دس روپے دیئے اور اس میں بیٹھ کر گاؤں روانہ ہوئے۔جب وہ اپنی منزل پر پہنچے تو وہ رتھ والے سے پوچھنے لگے کہ اب تم خالی جاؤ گے۔تمہیں بڑا نقصان ہو گا۔رتھ والے نے کہا میں نے آپ سے اسی لئے دس روپے لئے تھے اب میں خالی بھی واپس چلا جاؤں تو مجھے کوئی نقصان نہیں۔ماسٹر صاحب نے کہا اگر واپس جاتے ہوئے کوئی سواری مل جائے تو تم اس سے کیا لو گے۔رتھ والے نے کہا میں نے دونوں طرف کا کرایہ آپ سے وصول کر لیا ہے۔اب اگر کوئی مجھے ایک روپیہ بھی دے تو میں اُسے لے جاؤں گا۔ماسٹر صاحب نے کہا تب ایک روپیہ مجھ سے لے لو اور مجھے واپس لے جاؤ۔چنانچہ وہ اسی لالچ کی وجہ سے کہ رتھ والا انہیں اب ایک روپیہ میں واپس لے جارہا ہے وہیں سے واپس چلے گئے۔پس میں جب اُن لوگوں کو دیکھتا ہوں جو دو ہزار روپے کی لالچ میں زمین بیچ رہے ہیں تو مجھے یہ قصہ یاد آجاتا ہے۔تم نے سو روپے خرچ نہیں کئے تھے بلکہ اس کی زمین خریدی تھی۔بہر حال یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کی علامت ہے۔اعتراض کرنے والے اعتراض کرتے ہیں۔پیغامی اعتراض کرتے ہیں کہ انہوں نے جماعت پر قبضہ کر لیا ہے۔احراری بھی سُبحَانَ اللہ کیا کیا باتیں بناتے ہیں لیکن آخر کیا وجہ ہے کہ ان کو یہ موقع نصیب نہیں ہوا کہ وہ ربوہ جیسا شہر آباد کر سکیں۔گورنمنٹ کے گزٹ میں لکھا ہوا موجود ہے کہ پچھلے ہزار سال سے یہاں کوئی آبادی نہیں تھی بلکہ یہاں تک لکھا ہے