انوارالعلوم (جلد 23) — Page 96
انوار العلوم جلد 23 96 حضرت اماں جان کے وجود گرامی کی اہمیت، تعمیر ربوہ اور۔۔۔۔ختم ہو گئی ہیں لیکن باوجود اس کو تاہ دامنی کے خدا تعالیٰ نے ہمیں ایسا سامان دیا کہ سڑک پر سے گزرنے والوں کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ایک بہت بڑا شہر بن چکا ہے۔تعالیٰ چاہے گا تو اگلے سال جب آپ جلسہ سالانہ پر آئیں گے تو ہمیں یہ بھی سوچنا پڑے گا کہ جلسہ گاہ کہاں بنائیں کیونکہ یہ جگہ زنانہ سکول کی ہے۔لڑکیوں کا سکول یہاں بنے گا۔اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی اور اگلے سال یہ سکول بن گیا تو یہاں تقریریں نہیں ہو سکیں گی۔پس حقیقت یہ ہے کہ یہ جو کچھ ہوا ہے اللہ تعالیٰ کی برکتوں سے ہی ہوا ہے۔ہم قادیان سے نکل کر آئے تو یہاں دینیات کالج بھی بن گیا، ہائی سکول بھی بن گیا، زنانہ ہائی سکول بھی بن گیا، زنانہ کالج بھی بن گیا، لڑکوں کا کالج ابھی نہیں بنا۔اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو وہ بھی بن جائے گا۔بھلا وہ کون سے مہاجر ہیں جن کے پاس مشرقی پنجاب میں کوئی زنانہ کالج نہیں تھا مگر اُنہوں نے یہاں آکر بنا لیا ہو۔یہ سب اللہ تعالیٰ کی برکتیں ہیں۔پھر یہاں آکر ہسپتال بنا لیا۔پہلے چھپر بنے ہوئے تھے اور چھت پر بانس ڈالے ہوئے تھے۔انہی چھپڑوں میں ہسپتال بھی تھا اور ڈاکٹر وہیں کام کرتے تھے۔اُدھر گورنمنٹ اعلان کر رہی تھی کہ تم اتنی اتنی تنخواہیں لے لو لیکن کوئی ڈاکٹر کام کے لئے آگے نہیں آتا تھا۔ادھر چھپتروں میں اور معمولی تنخواہوں پر ڈاکٹر کام کر رہے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کی دین ہے اگر دوسرے لوگوں نے بھی ربوہ جیسے شہر بنانے ہیں تو اس کا ایک ہی رستہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور سجدوں میں گر جائیں۔اُسی سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور دو کہیں۔اے اللہ ! تو ہی مدد فرما۔تو دیکھیں کتنے ربوہ بنانے کی انہیں توفیق ملتی ہے۔بہر حال یہاں بہت سے مکان بن چکے ہیں اور بہت سے مکانات ابھی بننے والے ہیں۔کئی دوست تو ایسے ہیں جنہوں نے سنا کہ وہ زمین جو ہم نے سو میں خریدی تھی اب د ہزار روپیہ میں بک رہی ہے تو انہوں نے زمین پچنی شروع کر دی اور کئی لوگ جنہوں نے پہلے زمین نہیں خریدی تھی وہ اب دو دو ہزار میں زمین خرید رہے ہیں۔ان لوگوں سے تو میں کہتا ہوں کہ تم نے ایک سو روپے میں زمین نہیں خریدی تھی اب دو ہزار میں خریدو۔