انوارالعلوم (جلد 23) — Page 89
انوار العلوم جلد 23 دیا ہے 89 حضرت اماں جان کے وجود گرامی کی اہمیت، تعمیر ربوہ اور تو مجھے نہ چھوڑنا۔یہ وہی مفہوم تھا جو الہام إِنِّی مَعَكَ وَ مَعَ اَهْلِگ میں بیان کیا گیا تھا کہ ہم تیرے ساتھ ہوں گے اور تیرے اہل کے ساتھ ہوں گے اور پھر حضرت اتاں جان کی زبان سے بھی کہلوا دیا۔پھر 19 جنوری 1908ء کو یہ الہام ہوتا ہے کہ إِنِّی مَعَكَ وَ مَعَ اَهْلِكَ هَذِهِ 11 بعض متشلکین جو ہمیشہ کریدتے رہتے ہیں کہہ سکتے ہیں کہ اس الہام میں خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آدم کہا ہے۔اب جس طرح اس سے مراد اصل آدم نہیں اسی طرح اہل سے مراد بھی اصل بیوی نہیں بلکہ یہاں جماعت مراد ہے۔پس اس الہام کے ذریعہ ایسے لوگوں کی تسلی کر دی اور الہام میں بتادیا کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور تیرے اہل کے ساتھ ہوں جو یہ ہے یعنی اس بیوی کے ساتھ ہوں۔جماعت تو ایک تھی دو نہیں تھیں۔اس لئے ھذہ کہنے کی ضرورت نہیں تھی۔بیویاں دو تھیں اس لئے ھذہ کہہ کر یہ بات پکی کر دی کہ یہ وعدے خاص حضرت اتاں جان کے ساتھ ہیں۔پھر 19 مارچ 1907ء کو خواب میں دیکھا حضرت اتاں جان آئی ہیں اور آپ کہتی ہیں کہ "میں نے خدا کی مرضی کے لئے اپنی مرضی چھوڑ دی ہے" یہ بھی اسی طرف اشارہ تھا کہ تم وفات پاؤ گے اور یہ صبر کا پورا نمونہ دکھا ئیں گی۔آپ کہتے ہیں کہ میں نے ان کو جواب میں کہا اس سے تو تم پر حسن چڑھا ہے " 12 یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس فعل کو پسند کر کے تمہیں درجہ اور زینت عطا کی ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام تھا کہ " اسنی یا اس پر پانچ چار زیادہ یا پانچ چار کم "12 اس الہام پر بعض غیر احمدی ملنٹے اعتراض کرتے ہیں کہ یہ خدا کا کلام نہیں۔خدا تعالیٰ کو تو شک نہیں پڑتا۔کیا خدا تعالیٰ کو 85 یا 75 اور 76 کے ہند سے نہیں آتے۔یہ کیا الہام ہے کہ "استی یا اتنی پر پانچ چار زیادہ یا پانچ چار کم " یہ خدا تعالیٰ کا کلام نہیں لیکن یہ مولوی بھول جاتے ہیں کہ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَالِکَ یہ غلطی خدا تعالٰی نے قرآن کریم میں بھی کی ہے کیونکہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ حضرت یونس کی نسبت فرماتا ہے وَ اَرْسَلْنَهُ إِلى مِائَةِ الْفِ اَوْ يَزِيدُونَ 14 یونس کو ہم نے لاکھ یا شاید لاکھ سے کچھ زیادہ