انوارالعلوم (جلد 23) — Page 88
انوار العلوم جلد 23 88 حضرت اماں جان کے وجود گرامی کی اہمیت، تعمیر ربوہ اور۔۔۔۔۔دوبارہ شروع ہو گیا۔یہ کتنا بڑا ثبوت ہے اس بات کا کہ یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے اس کو توارد کون کہہ سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے قادیان میں پیدا کیا جو ایک گمنام بستی تھی۔آپ کو ایک ایسے خاندان میں پیدا کیا جو اس زمانہ کے اعلیٰ درجہ کے خاندانوں میں سے ایک تھا پھر ایک پیر خاندان میں رشتہ کیا جو یہ دعویٰ کرتا تھا کہ ہمیں وہ کمال ملا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اور کسی کو نہیں ملا۔پھر بڑی مشکل یہ تھی کہ حضرت اماں جان کے والد حضرت میر ناصر نواب صاحب اہل حدیث تھے اور حضرت مسیح موعود اہل حدیث کے نام سے گھبراتے تھے۔آپ فرماتے تھے کہ ان لوگوں میں روحانیت نہیں ہوتی یہ لوگ متشکلک ہوتے ہیں اس خاندان میں آپ کی شادی ہوئی۔شادی سے پہلے بیوی کا ذکر الہامات میں آتا ہے لیکن جب شادی ہو جاتی ہے تو یہ ذکر ختم ہو جاتا ہے۔پھر عین تیس سال کے بعد جب حضرت مسیح موعود کی وفات کا وقت قریب آتا ہے تو پھر الہامات میں بیوی کا ذکر آجاتا ہے۔یہ کون سے اتفاق کی بات ہے۔یہ تو ایک بڑا ثبوت ہے اس بات کا کہ غیب کی طاقت نے یہ خبر دی۔پہلے تو یہ بات سمجھ میں نہیں آئی تھی۔اب واقعہ کے بعد یہ بات سمجھ میں آئی ہے کہ اس کا کیا مطلب تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے عین قریب بیوی کا ذکر آتا ہے یعنی إِنِّىٰ مَعَكَ وَمَعَ اَهْلِکَ۔إِنِّي مَعَكَ وَمَعَ اَهْلِگ کے الہامات بار بار ہوتے ہیں۔اس کے صاف معنے یہ ہیں کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کی خبر دی جارہی تھی تو ساتھ ہی آپ کو یہ تسلی دی جارہی تھی کہ تمہارے بعد تمہاری بیوی کے ہم خود کفیل ہوں گے اور حضرت اناں جان کو بھی یہ تسلی دی کہ گو تم سے تمہارا خاوند جُدا ہو گا مگر ہم جُدا نہیں ہوں گے۔ہم تیرے ساتھ ہوں گے اور تیرے خود کفیل ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات سے پہلے تو آپ کا ذہن اس طرف نہیں جاسکتا تھا لیکن آپ کی وفات کے بعد جو فقرہ حضرت اماں جان کی زبان پر بار بار آیا وہ یہی تھا کہ اے خدا! انہوں نے تو مجھے چھوڑ