انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 361

انوار العلوم جلد 23 361 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ شخص نے کسی کو پیٹھ پیچھے گالی دی اور دوسرے شخص نے وہ گالی اُس کو پہنچادی تو اُس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی نے کسی شخص کو تیر مارا اور وہ لگا نہیں لیکن دوسرے نے وہ تیر اُٹھایا اور اُس کے سینہ میں گھونپ دیا۔علماء کا شغل تکفیر اسلام اور کفر کے بارہ میں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ صرف یہی بات نہیں کہ غیر احمدیوں نے احمدیوں کو کافر کہا جس کے نتیجہ میں ایک لمبے عرصہ کے بعد احمدیوں کو جواب دینا پڑا اور اس جواب میں بھی وہ بہت محتاط رہے بلکہ اس سے بڑھ کر یہ بات ہے کہ مسلمانوں کو کافر کہنے کی رسم علماء میں بہت دیر سے چلی آتی ہے۔چنانچہ اسلامی بنیادی اصول کے مضمون میں ہم بتا چکے ہیں کہ شروع زمانہ اسلام سے علماء بزرگانِ اسلام کو کافر کہتے آئے ہیں۔اب ہم چند حوالے اس بارہ میں دیتے ہیں کہ زمانہ قریب میں بھی سنیوں نے شیعوں کو خارج از اسلام قرار دیا ہے اور اُن کے ساتھ مناکحت حرام، اُن کا ذبیحہ حرام، اُن کا جنازہ حرام بلکہ اُن کا سٹی کے لئے جنازہ پڑھنا بھی حرام قرار دیا ہے۔277 اسی طرح شیعہ حضرات کا فتویٰ سنیوں کے متعلق ہے کہ وہ سب غیر ناجی ہیں۔خواہ شہید ہی کیوں نہ ہوں۔278 تمام سٹی جو آئمہ اہل بیت پر ایمان نہیں لاتے کا فر ہیں۔279 دیو بندی علماء نے مولوی ابو الحسنات صاحب کے والد اور ان کے پیر مولوی احمد رضا خان صاحب کی نسبت یہ فتویٰ دیا ہے کہ وہ اور اُن کے اتباع کافر ہیں۔اور جو انہیں کافر نہ کہے یا اُن کے کافر کہنے میں کسی وجہ سے بھی شک کرے وہ بھی بلا شبہ قطعی 280 کافر ہے۔اب مولانا میکش خود بتائیں کہ اُن کے پیر مولوی احمد رضا خان صاحب اور اُن کے ماننے والوں کے کفر میں آیا اُن کو کوئی شک ہے یا نہیں اور اسی فتویٰ میں وہ دیو بندیوں کو سچا سمجھتے ہیں یا جھوٹا؟ بریلوی علماء نے بھی کمی نہیں کی۔وہ فتویٰ دیتے ہیں کہ دیو بندی علماء