انوارالعلوم (جلد 23) — Page 362
انوار العلوم جلد 23 362 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ 281 مسلمانوں کے اجتماعی فتویٰ سے کافر ہیں۔مرتد اور اسلام سے خارج ہیں۔اِس فتویٰ میں حرمین کے علماء بھی شامل ہیں۔نہ معلوم میکش صاحب اس فتویٰ کے بعد جو اجماعی ہے اپنے پہلو میں بیٹھنے والے دیوبندی علماء کی نسبت کیا فتویٰ دیتے ہیں اور اجماع کی کیا قیمت لگاتے ہیں۔مولانا ابو الحسنات اور میکش صاحب تو آج کہہ رہے ہیں کہ احمدیوں پر گفر کا فتویٰ اصلی ہے اور باقی فرقوں پر رسمی۔مگر احمد رضا خان صاحب بریلوی اور علماء حرمین اپنے فتویٰ میں بائی سلسلہ احمدیہ اور دیو بندی علماء کا نام اکٹھا لکھتے ہیں اور آخر میں کہتے ہیں کہ یہ وہابی یعنی دیو بندی اوپر کے گنائے ہوئے لوگوں میں سے سب سے بڑے کافر ہیں۔282 قادریہ اہل حدیث کے بارہ میں سنی علماء نے فتویٰ دیا ہے کہ مرتد ہیں اور باجماع امت 283 565 284 اسلام سے خارج ہیں۔33 اہل حدیث نے مقلدین کی نسبت لکھا ہے حنفی ، شافعی، مالکی، حنبلی، چشتیہ، آ ه نقشبندیہ مجددیہ سب لوگ مشرک اور کا فر ہیں۔14 لیکن باوجود اس کے اس گفر کے نتیجہ میں کبھی بھی کسی کو اقلیت قرار دینے یا مسلمانوں کے جائز حقوق سے محروم قرار دینے کی کوشش نہیں کی گئی۔چنانچہ سب سے پہلی مثال تو اُن مرتدین کی ہے جن کو خود قرآن کریم نے کافر قرار دیا ہے۔منافقوں کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں صاف طور پر فرماتا ہے اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلًا - 285 یعنی منافق پہلے ایمان لائے پھر کافر ہو گئے ، پھر ایمان لائے پھر کافر ہو گئے اور پھر کُفر میں اور بھی بڑھ گئے لیکن باوجود ان صریح الفاظ کے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں منافقوں کو اسلامی حقوق سے محروم نہیں کیا گیا بلکہ وہ آخر تک مسلمانوں میں شامل رکھے گئے، ان سے مشورے لئے جاتے رہے اور اُن کو تمام اسلامی کاموں میں شریک رکھا گیا۔یہ عجیب بات ہے کہ خدا کسی کو کافر کہتا تو وہ محض کلمہ پڑھنے کی وجہ سے باوجود خدا کے حکم کے