انوارالعلوم (جلد 23) — Page 347
انوار العلوم جلد 23 347 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ جس شخص کے حصے میں ایک حصہ بھی نہ آیا ہو وہ تباہ ہو گیا۔پہلا حصہ یہ ہے کہ وہ لا اِلهَ اِلَّا الله کی گواہی دے۔یعنی جو شخص لا اِلهَ اِلَّا اللہ کہہ دیتا ہے وہ ملتِ اسلامی میں داخل ہو جاتا ہے۔اسی طرح بخاری کتاب الایمان میں آتا ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے دریافت فرمایا کہ أَتَعْلَمُونَ مَا الْإِيْمَانُ بِاللَّهِ وَحْدَهُ - کیا تمہیں معلوم ہے کہ ایمان کی کیا تعریف ہے ؟ اُنہوں نے کہا کہ اللہ اور اُس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا شَهَادَةُ أَنْ لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَ آنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللَّهِ - ایمان یہ ہے کہ انسان اپنے مُنہ سے لا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ کہہ دے۔اسی طرح حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ مَنِ انْتَقَصَ مِنْهُنَّ شَيْئًا فَهُوَ سَهُمْ مِنْ سَهَامِ الْإِسْلَامِ تُرِكَ وَمَنْ تَرَكَهُنَّ كُلُّهُنَّ فَقَدْ تَرَكَ الْإِسْلَامَ 249 کہ اسلام کے کئی حصے ہیں جس نے ان حصوں میں سے کوئی حصہ کھو دیا اُس نے اسلام کے حصوں میں سے ایک حصہ کھو دیا اور جس نے سارے حصے کھو دیئے اُس نے سارا اسلام کھو دیا۔ان حدیثوں سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ ایک اسلام محض لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ کہنے سے حاصل ہو جاتا ہے اور ملت اسلامیہ اسی کا نام ہے جو شخص لا إِلهَ إِلَّا الله کہہ دے وہ ملت اسلامیہ میں شامل ہو جاتا ہے۔جو شخص اسے ملت اسلامیہ سے خارج قرار دے وہ خدا اور رسول پر ظلم کرتا ہے اور انہیں جھوٹا قرار دیتا ہے۔ان معنوں میں ہم نے کبھی کسی مسلمان کو کافر نہیں کہا بلکہ سارے کے سارے مسلمان فرقوں کو ہم ملتِ اسلامی کا جزو قرار دیتے رہے ہیں۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ”إِنْكَارُ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ هُوَ بِهِ كُفْرٌ وَلَيْسَ كَمَنْ كَفَرَ بِاللهِ وَمَلئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ - 250 الله تعالى کی کسی وحی یا الہام کا انکار کفر تو ہے لیکن وہ ایسا کفر نہیں جیسے اللہ ، ملا ئکہ ، کتب اور رسل کا کفر ہوتا ہے۔اسی طرح امام ابن تیمیہ کہتے ہیں اَلْكُفْرَ كُفْرَانِ أَحَدُ هُمَا يَنْقُلُ عَنا وَالْآخَرَ لَا يَنْقُل عَنِ الْمِلَّةِ 251 یعنی کفر دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک کفر ملت سے نکال دیتا ہے الملة