انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 296 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 296

انوار العلوم جلد 23 296 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ وَ كَفَى بِاللهِ عَلِيمًا 135 اور جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرے۔فَأُولَبِكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ تو وہ اُن لوگوں کے گروہ میں شامل کئے جائیں گے جن پر خدا تعالیٰ نے انعام کیا ہے۔یعنی نبیوں کے گروہ میں اور صدیقوں کے گروہ اور شہیدوں کے گروہ میں اور صالحین کے گروہ میں۔اور یہ لوگ سب سے بہتر ساتھی ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فضل ہے اور اللہ تعالیٰ تمام اُمور کو بہتر سے بہتر جانتا ہے۔اس آیت میں صاف بتایا گیا ہے کہ منعم علیہ گروہ کا رستہ وہ رستہ ہے جس پر چل کر انسان نبیوں میں اور صدیقوں میں اور شہیدوں اور صلحاء میں شامل ہوتا ہے۔بعض لوگ اس جگہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہاں ” مع “ کا لفظ ہے اور معنی یہ ہیں کہ یہ لوگ منعم علیہ گروہ کے ساتھ ہوں گے۔خود منعم علیہ گروہ میں شامل نہیں ہوں گے۔حالانکہ اس آیت کے یہ معنی ہو ہی نہیں سکتے کیونکہ اس صورت میں اس آیت کے یہ معنی بن جائیں گے کہ لوگ منعم علیہ گروہ کے ساتھ ہوں گے لیکن اس گروہ میں شامل نہیں ہوں گے یعنی نبیوں کے ساتھ ہوں گے لیکن نبیوں میں شامل نہیں ہوں گے۔صدیقوں کے ساتھ ہوں گے مگر صدیقوں میں شامل نہیں ہوں گے۔شہیدوں کے ساتھ ہوں گے لیکن شہیدوں میں شامل نہیں ہوں گے اور صالحین کے ساتھ ہوں گے لیکن صالحین میں شامل نہیں ہوں گے۔گویا ان معنوں کی رُو سے امت محمدیہ صرف نبوت سے ہی محروم نہیں ہوئی بلکہ صدیقیت سے بھی محروم ہو گئی اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا تھا کہ ابو بکر صدیق ہے وہ نعوذ باللہ غلط ہے اور شہداء کے درجہ سے بھی محروم ہو گئی۔قرآن کریم میں جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم شہداء کے مقام پر ہیں وہ بھی غلط ہے ( شُهَدَاء عَلَى النَّاسِ (136) اور صالحین میں بھی اِس اُمت کا کوئی آدمی داخل نہیں ہوتا۔اور یہ جو خیال ہے کہ اُمت محمدیہ میں بہت سے صلحاء گزرے ہیں، یہ بھی بالکل غلط ہے۔کیا کوئی عقلمند آدمی جس کو قرآن اور حدیث پر عبور ہو ان معنوں کو مان سکتا ہے ؟ ”مع“ کے معنی خالی ساتھ کے نہیں ہوتے۔”مع“ کے معنی شمولیت کے بھی