انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 297

انوار العلوم جلد 23 297 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ ہوتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں مومنوں کو دُعا سکھلائی گئی ہے۔تَوَفَّنَا مَعَ الابرار - 137 اے اللہ ! ہم کو ابرار کے ساتھ موت دے۔اور ہر مسلمان اس کے یہی معنی کرتا ہے کہ اے اللہ ! مجھے ابرار میں شامل کر کے موت دے۔یہ معنی کوئی نہیں کرتا کہ یا اللہ ! جس دن کوئی نیک آدمی مرے اُسی دن میں بھی مر جاؤں۔اسی طرح قرآن کریم میں ہے اِنَّ الْمُنْفِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرًا إِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوا وَ اَصْلَحُوا وَ اعْتَصَمُوا بِاللَّهِ وَ اخْلَصُوا دِينَهُمْ لِلَّهِ فَأُولَبِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ وَسَوْفَ يُؤْتِ اللَّهُ الْمُؤْمِنِيْنَ اَجْرًا عَظِيمًا۔138 یعنی منافق جہنم کے سب سے نچلے درجہ میں ہوں گے اور تو کسی کو ان کا مددگار نہ دیکھے گا۔ہاں جو تو بہ کرے اور اصلاح کرے اور خدا تعالیٰ کی تعلیم کو مضبوطی سے پکڑے اور خدا تعالیٰ کے لئے اپنی اطاعت مخصوص کر دے تو وہ مومنوں میں شامل کئے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ جلد مؤمنوں کو بہت بڑا اجر دے گا۔اس جگہ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ کے الفاظ ہیں مگر مَعَ۔مِنْ کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔اسی طرح سورہ حجر میں آیا ہے مَا لَكَ اَلا تَكُونَ مَعَ السُّجِدِينَ _ 139 اے ابلیس ! کیوں تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہیں ہوا مگر سورہ اعراف میں ہے لَمْ يَكُن مِّنَ السجدين 140 ابلیس سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ تھا۔پس ”مع“ قرآن کریم میں ”میں“ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور قرآن کریم کی مشہور لغت ”مفردات القرآن“ مصنفہ امام راغب میں بھی لکھا ہے "وَ قَوْلُهُ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِيْنَ أَيْ اِجْعَلْنَا فِي زُمْرَتِهِمْ إِشَارَةٌ إِلى قَوْلِهِ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِيْنَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ“ 141 يعنى فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِيْنَ میں مَعَ کے یہ معنی ہیں کہ ہم کو زمرة الشاہدین میں داخل فرما۔جس طرح کہ آیت فَأُولَبِكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمُ میں ”مَعَ“ کے معنی یہ ہیں کہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے والے منعم علیہم کے زمرہ میں شامل ہوں گے۔نیز تفسیر بحر محیط میں امام راغب کے اس قول کی مزید تشریح ان الفاظ میں کی گئی وو وو