انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 262

انوار العلوم جلد 23 262 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ ہم۔انہوں نے مسلمانوں سے الگ رہنے کی کوششیں کیں۔مثلار بوہ بنایا۔د ہم۔ایک بات احمدیوں کے متعلق یہ بھی کہی گئی ہے کہ وہ پاکستان کے مخالف ہیں اور عقلاً بھی وہ مخالف ہونے چاہئیں کیونکہ وہ ایک امام کو مانتے ہیں اور اس طرح وہ ایک متوازی حکومت بنانے کے مجرم ہیں۔سوال نمبر 1۔متعلق اجرائے وحی و نزولِ جبرئیل کہا گیا ہے کہ یہ فسادات احمدیوں کے عقائد اور اُن کے طرزِ عمل کا طبعی نتیجہ تھے کیونکہ احمدیوں کا نبوت اور نزول وحی کے متعلق نظر یہ اپنی ذات میں اتنا اشتعال انگیز ہے کہ کوئی مسلمان اسے برداشت ہی نہیں کر سکتا۔اور جو شخص یہ عقیدہ رکھے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرنے والا ہے اور مسلمانوں کو اس پر غصہ آنا لازمی ہے۔اور علماء نے لوگوں کو نہیں اُکسایا بلکہ لوگ خود ان باتوں کو سُن کر جوش سے اندھے ہو گئے۔اِس کا جواب یہ ہے کہ احمدی جماعت کے عقائد آج پہلی مرتبہ لوگوں کے سامنے نہیں آئے بلکہ آج سے ستر سال پہلے سے سامنے آرہے ہیں۔اگر ان سے واقع میں طبائع میں جوش پیدا ہو سکتا تھا تو وہ ستر سال پہلے پید اہونا چاہئے تھا نہ کہ آج۔کہا گیا ہے کہ: پہلے انگریزی حکومت تھی جس کو اسلام سے کوئی واسطہ نہیں تھا لیکن اب قیام پاکستان کے بعد مسلمانوں کو اپنے جذبات کے اظہار کا موقع میسر آیا ہے“۔اس کے جواب میں معزز عدالت کی توجہ کے لئے مندرجہ ذیل حقائق پیش کئے جاسکتے ہیں:۔(1) انگریزی دورِ حکومت میں ہندو مسلم اور شیعہ سنی فسادات ہوتے رہے۔انفرادی طور پر مذہبی اختلافات کی بناء پر بھی قتل کی وارداتیں ہوتی رہیں مثلاً راجپال، شردھانند وغیرہ قتل ہوئے۔سیاسی اختلافات کی بناء پر انگریز گورنر جنرل (لارڈ منٹو)