انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 198

انوار العلوم جلد 23 198 تعلق باللہ اپنے بیٹے کی طرف گیا جو نہایت کالا کلوٹا اور بھدی شکل کا تھا اور جس کے موٹے موٹے ہونٹ تھے ناک بیٹھا ہوا تھا اور ٹوپی اُس کے سر پر رکھ دی۔یہ دیکھ کر سارا در بار ہنس پڑا۔بادشاہ نے اُس سے کہا کہ میں نے تو تمہیں کہا تھا کہ سب سے خوبصورت بچہ کے سر پر یہ ٹوپی جا کر رکھ دو اور تم نے اس بچہ کے سر پر رکھ دی۔اُس نے کہا بادشاہ سلامت مجھے تو یہی بچہ سب سے زیادہ خوبصورت نظر آتا ہے۔تو ماں باپ کی اپنے بچوں سے محبت اُن کی اچھی شکل وصورت کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ بعض اور چیزوں کی وجہ سے ہوتی ہے جن کو میں آگے چل کر بیان کروں گا اور جن کو ماں باپ بھی نہیں جانتے۔چنانچہ کسی ماں سے پوچھ کر دیکھ لو کہ تم اپنے بچے سے کیوں محبت کرتی ہو تو بجائے جواب دینے کے وہ ہنس کے کہہ دے گی کہ سودائی کہیں کا یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے حالانکہ بچہ ماں باپ کے لئے موجب تکلیف اور خرچ ہوتا ہے۔بچہ پیدا ہوتے ہی اُس کی رات دن نگرانی کرنی پڑتی ہے۔دایہ کے اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں۔سردی اور گرمی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لئے کپڑے تیار کرنے پڑتے ہیں۔پھر اگر بچہ کو رات کے وقت پیٹ میں کوئی تکلیف ہو جائے تو ماں ساری ساری رات اُسے لے کر پھرتی رہتی ہے اور جب وہ درد کی وجہ سے روتا اور چلاتا ہے تو وہ کہتی ہے "میں مر جاؤں"، "میں مر جاؤں"۔پس ماں باپ سے پوچھنے کی بجائے ہمیں فلسفیانہ طور پر غور کرنا چاہیے کہ آخر بچہ سے ماں باپ کیوں محبت کرتے ہیں۔اس نقطہ نگاہ سے جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں اس محبت کی پانچ وجوہ معلوم ہوتی ہیں۔پہلی وجہ اس محبت کی مقام خالقیت ہے۔یعنی ماں باپ اپنے بچوں سے اس لئے محبت کرتے ہیں کہ وہ ایک رنگ میں اُن کے خالق ہوتے ہیں اور وہ دنیا میں ایک نیا وجود پیدا کرتے ہیں۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا اس لئے بنائی ہے کہ یہ ترقی کرے اور پھیلے اور چونکہ پیدائش عالم کی ایک بڑی غرض یہ تھی جیسا کہ وہ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاء 27 سے ظاہر ہے اور پتہ لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا اس لئے نہیں بنائی تھی کہ صرف آدم و حوا پیدا ہو جائیں بلکہ وہ چاہتا تھا کہ اُن کی نسل کو پھیلائے