انوارالعلوم (جلد 23) — Page 197
انوار العلوم جلد 23 197 تعلق باللہ کو اُس کی محبت پیدا ہوتی جاتی ہے۔دوسرے الفاظ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم اپنے اپنے دائرہ میں چھوٹے خدا بننے کی کوشش کرو۔جب تم چھوٹے خدا بن جاؤ گے تو بڑا خدا تم سے آپ ہی محبت کرنے لگ جائے گا۔(10) ایک ذریعہ محبت کا فطرت کا مطالعہ اور محبت کے طریقوں پر غور کرنا اور اُن پر عمل کرنا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر کچھ جذبات رکھتے ہیں جو خود اس نے پیدا کئے ہیں۔ان میں صفات الہیہ کی جھلک رکھی گئی ہے یعنی انسان کے اندر اس نے ایسے مادے رکھ پر دئے ہیں جن سے خدا اور بندے میں ہم جنسیت ہو جاتی ہے۔اب ہم قانونِ قدرت سے وہ امور تلاش کرتے ہیں جو محبت پیدا کرنے کا ذریعہ ہوتے ہیں تا کہ ان پر غور کر کے ایک طالب صادق محبت الہی پیدا کر سکے۔(1) سب سے پہلی محبت ہم دیکھتے ہیں کہ ماں باپ اور اولاد کی ہوتی ہے اِس محبت میں حسن اور احسان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔کسی ماں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ میں اپنے بچہ سے اس لئے محبت نہیں کرتی کہ وہ خوبصورت نہیں۔نہ کوئی ماں یہ کہتی ہے کہ میں اپنے بچوں سے اس لئے محبت کرتی ہوں کہ انہوں نے ہم پر احسان کئے ہوئے ہیں۔نہ بچے نے ماں باپ پر احسان کئے ہوتے ہیں اور نہ وہ اُس کی شکل دیکھتے ہیں بلکہ باوجود بدصورت ہونے کے انہیں اپنا بچہ ہی سب سے زیادہ خوبصورت نظر آتا ہے۔آج ہی ایک عورت مجھ سے ملنے کے لئے آئی اُس نے گود میں اپنا بچہ اٹھایا ہوا تھا۔اُس بچہ کو دیکھ کر گھن آتی تھی۔ناک بہہ رہا تھا اور بہتے ہوئے اُس کے ہونٹوں پر گر رہا تھا مگر ماں کو اس کی کوئی پرواہ نہیں تھی اور وہ اُس کی رینٹھ کو غالباً مشک اور عنبر سے بھی زیادہ اچھا بجھتی تھی۔تو ماں باپ کی محبت کسی ظاہری دلیل کی وجہ سے نہیں ہوتی۔کتابوں میں قصہ لکھا ہے کہ ایک بادشاہ اپنے دربار میں بیٹھا ہوا تھا کہ اُس نے ایک حبشی کو بلایا اور اُسے ایک خوبصورت ٹوپی دے کر کہا کہ تمہیں اِس دربار میں جو سب سے زیادہ خوبصورت بچہ دکھائی دے اُس کے سر پر جا کر یہ ٹوپی رکھ دو۔وہ سیدھا