انوارالعلوم (جلد 23) — Page 196
انوار العلوم جلد 23 196 تعلق باللہ کرتا ہوں اور اسی کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہدایت دیتے ہیں کہ تم میں سے جب کوئی شخص نیک کام کرے تو اُسے چاہیے کہ وہ اِختِسَابًا کرے۔24 اِختِسَابًا کے معنی ہیں خدا تعالیٰ کی خوشنودی اور اُس کی جزاء کے لئے۔لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ مقام ادنی ہے حالانکہ یہ بہت اعلیٰ مقام ہے اور اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے محبت کرنے لگ جاتا ہے۔(9) محبت کا ایک ذریعہ ہم جنس بننا ہے۔جتنا جتنا کوئی ہم جنس بنے اس کی محبت اُسے اور اُس کی اِسے پیدا ہو جاتی ہے۔انسانوں کو دیکھ لو سب ہم جنس سے محبت کرنے کے عادی ہیں۔ملکی ملکیوں سے اور ایک زبان والے اپنی زبان والوں سے اسی وجہ سے محبت کرتے ہیں کہ وہ اُن کے ہم جنس ہوتے ہیں بلکہ انسان تو الگ رہے جانوروں میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے۔کوے سب اکٹھے رہیں گے ، قاز 5 سب اکٹھے رہیں گے ، مرغ، گھوڑے اور گدھے اپنی اپنی جنس میں رہیں گے۔ایک طرف آدمی ہوں اور دوسری طرف گھوڑے اور تم کسی گھوڑے کو کھلا چھوڑ دو تو وہ فوراگھوڑوں کی طرف چلا جائے گا۔اسی کی طرف خدا تعالیٰ قرآن شریف میں ان الفاظ میں اشارہ فرماتا ہے کہ يُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ خدا تعالیٰ اُن لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کے ہم جنس بننے کی کوشش کرتے ہیں۔پس خدا تعالیٰ کی جو صفات قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں تم اُن کی نقل کرنے کی کوشش کرو۔تم حي نہیں بن سکتے لیکن تم بیمار کا علاج کر کے یا بیمار کی خدمت کر کے حی کی نقل تو کر سکتے ہو۔تم ہمیت نہیں بن سکتے لیکن تم بدی کا خاتمہ کر کے ممیت کی نقل تو کر سکتے ہو۔تم خالق نہیں بن سکتے لیکن تم اچھی اولاد پیدا کر کے خالق کی نقل تو کر سکتے ہو۔مُتَطَہر کے معنی ہیں تکلف کے ساتھ پاکیزگی اختیار کرنا۔پس اِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ میں اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اگر تم میری نقلیں کرنی شروع کر دو تو میں تم سے محبت کرنے لگ جاؤں گا۔پس صفاتِ الہیہ کو جو شخص اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے جس جس قدر اللہ تعالیٰ سے اُسے مشابہت ہوتی جاتی ہے اُس کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت پیدا ہوتی جاتی ہے اور خدا تعالیٰ