انوارالعلوم (جلد 23) — Page 168
انوار العلوم جلد 23 168 تعلق باللہ یہ قانون اللہ تعالیٰ نے جب کے متعلق رکھا ہے رغبت کے متعلق نہیں رکھا۔اُنس کے متعلق نہیں رکھا۔وڈ کے متعلق نہیں رکھا۔رغبت جس میں کچھ خدا کی محبت ہو اور کچھ دنیا کی محبت، انسان کو خدا کا مقرب بنا سکتی ہے۔اُنس جس میں خدا کی بھی محبت ہو اور دنیا کی بھی محبت ہو اللہ تعالیٰ کے قرب میں انسان کو کچھ نہ کچھ بڑھا دیتا ہے۔اگر رغبت یا انس کے مقام پر انسان سے کچھ غلطی ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کہے گا کہ جانے دو میرا یہ بندہ ابھی پورے طور پر ہوش میں نہیں آیا اس کی غلطیاں نظر انداز کرنے کے قابل ہیں پھر وہ وڈ کے مقام پر بھی پہنچ جائے گا تو اللہ تعالیٰ اُس کی غلطیوں کی کچھ زیادہ پرواہ نہیں کرے گا کیونکہ نہ وہ خدا میں فنا ہو گیا ہو گا اور نہ خدا اُس کے دل میں جابسا ہو گا۔اُس کی مثال ایسی ہو گی جیسے کوئی نابالغ بچہ لڑائی میں شامل ہوا اور اس نے کمزوری دکھائی اور وہ مید ان سے بھاگ گیا لیکن جب حب کے مقام پر انسان پہنچ جائے تو اُس وقت وہ اپنے باپ کو یا اپنے بیٹے کو یا اپنے بھائی کو یا اپنی بیوی کو یا اپنے قبیلہ کو یا اپنے خاندان کو یا اپنے مال کو یا اپنی شہرت کو یا اپنے علم کو یا اپنی نیک نامی کو یا اپنے مکانوں اور جائدادوں کو خدا تعالیٰ پر ترجیح دے تو وہ خدا تعالیٰ کے دربار سے دھتکار دیا جائے گا اور اُسے کہا جائے گا کہ تم نے ہمارے مقام محبت کی ہتک کی ہے۔پس بے شک یہ مقام اعلیٰ ہے مگر اس مقام کی ذمہ داریاں بھی بڑی ہیں۔جو پہلی رعائتیں تھیں وہ اس مقام پر آکر ختم ہو جاتی ہیں۔مقام رغبت تک وہ مزے میں تھا اور ادھر اُدھر جا سکتا تھا۔انس کے مقام تک بھی اگر اُس سے غلطی ہو جاتی اور فرشتے کہتے کہ ہم اسے سزا دیں تو اللہ تعالیٰ کہتا کہ سزا کیسی؟ ابھی اِس نے ہوش تھوڑی سنبھالی ہے۔پھر وڈ کا مقام آیا تو اس مقام میں بھی یہ خطرے سے باہر تھا کیونکہ گووہ بلوغت کے قریب پہنچ چکا تھا لیکن ابھی بالغ کے احکام اُس پر جاری نہیں ہو سکتے تھے لیکن جب وہ جب کے مقام پر پہنچا تو بالغ ہو گیا اور اس پر تمام احکام جاری ہونے لگ گئے۔جب تک یہ بالغ نہیں ہوا تھا اس کی گرفت کا کوئی سوال ہی نہیں تھا جیسے لڑائی ہو رہی ہو تو کوئی شخص بچوں کو نہیں پکڑتا کہ تم لڑائی پر کیوں نہیں جاتے بلکہ اگر کوئی نا بالغ بچوں کو پیش بھی کرے تو ذمہ دار افسر ہنس پڑتے ہیں کہ کس کو پیش کیا جارہا ہے چنانچہ تاریخوں