انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 137

انوار العلوم جلد 23 137 تعلق باللہ ہو گی اور فلاں کے گڑے کی شادی کرتی ہیں اور بڑی خوشی مناتی ہیں کہ ہمارے گڈے کی شادی ہو گئی یا ہماری گڑیا کا فلاں کے گڑے سے بیاہ ہو گیا۔پھر وہ ماؤں کی نقلیں کر کے گڑیوں کو اپنی گود میں اُٹھائے پھرتی ہیں، انہیں پیار کرتی ہیں اور جس طرح مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہیں اسی طرح وہ اُن کو اپنے سینوں سے لگائے رکھتی ہیں کیونکہ ان کا دل چاہتا ہے کہ ہم کسی کی ہو جائیں یا کوئی ہمارا ہو جائے۔اسی طرح لڑکوں کو دیکھ لوجب تک بیاہ نہیں ہوتا ہر وقت ماں کے ساتھ چھٹے رہتے ہیں لیکن جب بیاہ ہو جائے تو کہتے ہیں ماں تو جائے چولہے میں ہماری بیوی جو ہے وہ ایسی ہے اور ایسی ہے اور دن رات اُس کی تعریفوں میں گزر جاتے ہیں تو اللہ اسی مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ انسان کی فطرت میں ہم نے یہ مادہ رکھا ہے کہ وہ کسی نہ کسی کا ہو کر رہنا چاہتا ہے۔اس کے بغیر اُس کے دل کو تسلی نہیں ہوتی۔پھر علق کے معنی خصومت اور جھگڑے کے بھی ہوتے ہیں لیکن میرے مضمون کے ساتھ ان معنوں کا تعلق نہیں۔اس لحاظ سے آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ ہم نے انسان کے اندر جھگڑنے کا مادہ رکھا ہے۔اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری جگہ ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْ ءٍ جَدَر 12 جھگڑا بھی انسان تبھی کرتا ہے جب وہ کسی چیز کو ضائع نہیں ہونے دیتا۔اس لحاظ سے اس میں بھی تعلق کا مفہوم پایا جاتا ہے اور وہ تضاد جو بادی النظر میں دکھائی دیتا ہے دور ہو جاتا ہے۔غرض جب خدا تعالیٰ نے یہ کہا کہ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ انسان کو اللہ تعالیٰ نے علق سے پیدا کیا ہے یعنی انسان کی فطرت میں اس نے اپنی محبت کا مادہ رکھ دیا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ نہ صرف انسان خدا تعالیٰ سے محبت کر سکتا ہے بلکہ یہ کہ ہم نے خود انسان کے اندر محبت کا مادہ پیدا کیا ہے۔بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو کسی ہوتی ہیں اور بعض چیزیں کسی نہیں بلکہ فطرتی ہوتی ہیں۔خدا تعالیٰ کی محبت بھی کوئی کسی چیز نہیں بلکہ وہ ایک فطرتی مادہ ہے جو ہر انسان کے اندر پایا جاتا ہے۔جب تم ان ساری چیزوں پر غور کرو گے تو آخر تم اسی نتیجہ پر پہنچو گے کہ خدا تعالیٰ سے محبت ہو سکتی ہے۔