انوارالعلوم (جلد 23) — Page 101
انوار العلوم جلد 23 101 حضرت اماں جان کے وجود گرامی کی اہمیت ، تعمیر ربوہ اور۔۔۔۔۔آجائیں تو وہ دس افسروں کے قائمقام ہو جاتے ہیں۔دوسرے نئے آدمیوں کے آنے سے نئے ارادے اور نئے خیالات آتے رہتے ہیں۔پھر ربوہ کی آبادی کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ پنشنر دوست یہاں آئیں۔مجھے نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے پینشنر دوست پینشن لینے کے بعد بھی نوکری کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور کام کرتے چلے جاتے ہیں حالانکہ جب کسی کی اولاد جوان ہو گئی ہے اور کام کے قابل ہو گئی ہے تو اب انہیں آرام کرنا چاہئے اور جو دو چار سال زندگی کے باقی ہیں وہ خدا تعالیٰ کے ذکر اور اس کے کام میں لگانے چاہئیں لیکن ہوتا یہ ہے کہ وہ پنشن لینے کے بعد بھی نوکری کی کوشش میں لگے رہتے ہیں اور دوسو، چار سو روپیہ ماہوار حاصل کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں چلو نوکری تو ملتی ہے کر لو۔میں پھر ایسے لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ یہ تو اپنی زندگی کو ضائع کرنے والی بات ہے۔آخر تم خد اتعالیٰ کو کیا جواب دو گے ؟ اللہ تعالیٰ کہے گا تم نے 55 سال نوکری کی اور جو زندگی کے دو چار سال باقی تھے وہ بھی تم نے دنیوی لالچ کے لئے خرچ کر دیئے۔اگر تم نے مجھے پس خوردہ کھانا بھی نہیں دیا تو میں کیا سمجھوں کہ تمہارا مجھ سے کوئی تعلق ہے۔یہ تو وہی بات ہو گی کہ کہتے ہیں کسی شخص کے دوست کی کتیا نے بیچے دیئے اُس نے اس سے کہا۔مجھے کتیا کا ایک بچہ دینا۔اس نے کہا چھ بچے تھے وہ سارے مر گئے لیکن اگر وہ زندہ بھی ہوتے تو تمہیں کوئی بچہ نہ دیتا۔یہ بھی وہی بات ہے کہ ساری زندگی تو میں نے دی نہیں۔نوکری میں 55 سال خرچ کر دیئے ہیں لیکن اب جو دو چار سال زندگی کے پنشن لینے کے بعد باقی ہیں وہ بھی تمہیں نہیں دیتے۔تمہیں پنشن مل گئی ہے اولاد تمہاری جوان ہو گئی ہے وہ ملازم ہو گئی ہے اور انہیں تنخواہ ملنے لگ گئی ہے یا وہ اپنے کاموں میں لگ گئی ہے۔اگر چار پانچ سو تمہاری تنخواہ تھی اور اب تمہارے پاس ایک دو بچے رہ گئے ہیں تو دو اڑھائی سو روپیہ پنشن میں گزارہ ہو سکتا ہے۔اگر پنشن میں گزارہ نہیں ہو سکتا تو پچاس روپے اور لے لو۔تمہیں بھی فائدہ ہو گا اور دین کو بھی مدد ملے گی۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ پنشنر دوست یہاں آئیں اور اپنی خدمات سلسلہ کو