انوارالعلوم (جلد 23) — Page 83
انوار العلوم جلد 23 83 حضرت اماں جان کے وجود گرامی کی اہمیت، تعمیر ربوہ اور اس کے دو ہی معنے تھے کہ یا تو آپ کی اولاد میں سے مہدی ہو یا ان کی بیٹی مہدی موعود کے ساتھ بیاہی جائے۔یہ دونوں اقتباسات میخانہ درد کے ہیں جو ناصر خلیق ابن ناصر نذیر فراق کی تصنیف ہے۔پھر حضرت اماں جان کے وجود کی اہمیت کا پتہ اس بات سے بھی لگتا ہے کہ ابھی شادی نہیں ہوئی تھی۔کسی کو یہ خیال بھی نہیں تھا کہ یہ شادی ہو گی بھی یا نہیں کہ اس وقت حضرت مسیح موعود کو الہام ہوا جو تذکرہ کے صفحہ 29 پر درج ہے۔یہ الہام شادی ، تین سال قبل ہوا کہ أَشْكُرَ نِعْمَتِي رَأَيْتَ خَدِيجَتِی تُو میری نعمت کا شکر کر کہ جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدد گار کے طور پر حضرت خدیجہ ہی میں اسی طرح تجھ کو بھی خدیجہ ملنے والی ہے۔یہ الہام اس وقت ہوا جب ابھی شادی بھی نہیں ہوئی تھی۔یعنی یہ بھی نہیں تھا کہ شادی ہو جانے کی وجہ سے حضرت اتاں جان نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوئی خدمت کی ہو جس کی بناء پر خدا تعالیٰ نے آپ کی تعریف کی ہو بلکہ ابھی تک شادی کا نام بھی نہیں تھا۔یہ الہام 1881ء میں ہوا اور شادی 1884ء میں ہوئی۔یہ ہے۔پھر اس الہام کے قریب ایک اور الہام ہوا جو تذکرہ صفحہ 36 پر درج ہے اور وہ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الصِّهْرَ وَالنَّسَبَ خدا تعالیٰ ہی کو سب تعریف حاصل ہے جس نے تمہارے لئے سسرال بھی بڑے اعلیٰ درجہ کے تجویز کئے اور تم کو بھی ایک اعلیٰ خاندان سے پیدا کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام عام طور پر اس الہام کو بیان فرمایا کرتے تھے۔یہ الہام بھی شادی سے تین سال پہلے کا ہے۔یہ جو سسرال کی تعریف کی گئی ہے میں سمجھتا ہوں کہ اس میں خواجہ محمد ناصر کی پیشگوئی کی طرف اشارہ تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ان کا سلسلہ محمدیہ ، مہدی معہود کے سلسلہ سے مل جائے گا۔مہدی معہود خواجہ محمد ناصر کی اولاد میں سے تو نہ ہوئے۔ہاں آپ کی ایک نواسی ان سے بیاہی گئی اور اس طرح یہ سلسلہ محمد