انوارالعلوم (جلد 23) — Page 594
انوار العلوم جلد 23 594 صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کے دفاتر کے افتتاح۔۔۔چاہئے تھا کہ وہ ایسے معترضین کو اس بات کی وجہ سے ملامت کرتا اور کہتا تم کیوں بلا وجہ شک کرتے ہو اور ہمیں دھوکا دیتے ہو یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ اس نے ان لوگوں کو ایک ایسے کام کی توفیق دی جو قوم اور ملک کے لئے باعث صد فخر ہے۔ترقی کرنے والی قومیں ہمیشہ کام کرنے والوں سے حوصلہ پکڑتی ہیں اور ان سے نمونہ لیتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ یہ ملک اور قوم کے لئے ترقی کی ایک صورت پیدا کی گئی ہے لیکن ان معترضین نے یہ نمونہ دکھا کر اور یہ کہہ کر کہ اس قصبہ کی وجہ سے ملک کا امن خطرہ میں پڑ گیا ہے ایک خطر ناک کذب بیانی سے کام لیا۔بہر حال ہم سمجھتے ہیں کہ ہم میں زور نہیں تھا، طاقت نہیں تھی ہم بھی ویسے ہی تھے جیسے ہمارے دوسرے مہاجر بھائی ہیں ہمارے سامان بھی کم تھے لیکن اس کے باوجود خدا تعالیٰ نے ہمیں توفیق دی کہ ہم اپنے آپ کو دُکھ میں ڈالیں اور یہاں آکر مکان بنائیں اور نہ صرف یہاں مکانات بنائیں بلکہ اپنے چندوں کو بھی قائم رکھیں۔ناظر صاحب اعلیٰ نے ایڈریس میں کہا ہے کہ ہمارے چندے کم ہو گئے ہیں یہ بات درست نہیں۔ہمارے چندے کم نہیں ہوئے بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے برابر بڑھ رہے ہیں اگر قادیان کے چندوں کو ملا لیا جائے جہاں دو اڑھائی لاکھ روپیہ کے قریب سالانہ جمع ہوتا ہے تو چندے پہلے سے زیادہ ہیں اور اگر تحریک جدید کے چندوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ اور بھی زیادہ ہو جاتے ہیں۔بہر حال یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور اس کی دی ہوئی نعمت ہے۔چاہئے کہ اس پر جماعت کے اندر شکریہ کا احساس پیدا ہو۔ہمیں افسوس ہے کہ دوسرے لوگوں نے ہمارے اس کام کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا۔اگر وہ ہماری نقل کرتے اور بیس گاؤں اور آباد کر لیتے تو ہم خوش ہوتے کہ انہوں نے پاکستان کی مضبوطی کا ثبوت دیا ہے اور فاتحانہ سپرٹ کا اظہار کیا ہے لیکن کام کرنے کی بجائے دوسروں پر دباؤ ڈالنا شکست کی علامت ہوتی ہے۔یہ ایک قابل فخر کارنامہ تھا کہ اُجڑے ہوئے لوگوں نے ایک شہر بسالیا اور ہمارا ملک اس کا رنامہ پر دوسرے ملکوں میں فخر کر سکتا تھا اور کہہ سکتا تھا کہ آؤ دیکھو