انوارالعلوم (جلد 23) — Page 573
انوار العلوم جلد 23 573 اپنی روایات زندہ رکھو اور مستقل مائو تجویز کرو شاید وہ حکم اس کے لئے نہ ہو۔اس لئے یاد رکھو کہ کوئی چھوٹا ہو یا بڑا سوائے ڈاکٹروں اور ہم لوگوں کے جو خدمت پر مامور ہیں تم کسی شخص کو اندر نہ جانے دو۔وہ کہنے لگے بہت اچھا۔شام کے وقت میں آیا تو دیکھا کہ بعض لوگ چہ میگوئیاں کر رہے ہیں۔نیک محمد خاں نوجوان تھے۔سولہ سترہ سال کی عمر میں قادیان آئے تھے اور ایک شریف خاندان سے تھے۔اُن کا باپ ایک معزز آدمی تھا۔اس وجہ سے اُن کے پٹھان ہونے میں کوئی شبہ نہیں تھا لیکن ایک اور قسم کے پٹھان بھی ہمارے ملک میں ہوتے ہیں جن کے باپ دادے چار پانچ سو سال ہوئے اس ملک میں آئے وہ بھی اپنے آپ کو پٹھان کہتے ہیں لیکن چونکہ ایک لمبا عرصہ گزر جاتا ہے اس لئے یہ پتہ لگانا ذرا مشکل ہوتا ہے کہ وہ در حقیقت کون ہیں۔ممکن ہے وہ پٹھان ہوں یا ممکن ہے کسی اور قوم سے تعلق رکھتے ہوں اور پٹھانوں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے پٹھان کہلانے لگ گئے ہوں لیکن کہتے وہ یہی ہیں کہ وہ پٹھان ہیں۔ہماری جماعت کے ایک دوست اکبر شاہ خاں صاحب نجیب آبادی ہوا کرتے تھے۔اُن کی قوم بھی پٹھان کہلاتی تھی۔اُن کے باپ دادا کئی سو سال ہوئے ہندوستان میں آئے تھے لیکن انہیں اپنے پٹھان ہونے پر بہت فخر تھا۔وہ بھی حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی تیمار داری کے لئے آئے۔معلوم نہیں اُن کے دل میں حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کی کتنی محبت تھی لیکن ظاہر وہ یہی کیا کرتے تھے کہ انہیں آپ سے بہت بڑی عقیدت ہے۔جب اُنہوں نے سنا کہ حضور گھوڑے سے گر پڑے ہیں اور بیہوش ہو گئے ہیں تو وہ گھبر اگر آئے اور اُنہوں نے اندر جانا چاہا۔دروازہ پر نیک محمد خاں صاحب کھڑے تھے اُنہوں نے اندر جانے سے روکا۔بعض لوگوں کو اپنی قومیت پر حد سے زیادہ غرور ہوتا ہے۔اکبر شاہ خان صاحب نجیب آبادی کو بھی اپنی قومیت پر فخر تھا۔حالانکہ اُن کے باپ دادا کئی سو سال ہوئے ہندوستان آئے تھے۔اُنہوں نے کہا مطلب؟ نیک محمد خاں صاحب نے کہا۔اندر جانا منع ہے۔اُنہوں نے کہا۔میں نہیں جانتا کس نے اندر جانا منع کیا ہے۔میں ضرور جاؤں گا۔چنانچہ وہ پھر آگے بڑھے۔اس پر نیک محمد خاں صاحب نے انہیں دھکا دے دیا۔