انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 574 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 574

انوار العلوم جلد 23 574 اپنی روایات زندہ رکھو اور مستقل مائو تجویز کرو اکبر شاہ خاں صاحب نجیب آبادی کو غصہ آیا اور اُنہوں نے کہا تم نہیں جانتے میں کون ہوں؟ میں پٹھان ہوں۔گویا وہ چار پانچ سو سال کی پٹھانی کا رُعب ایک نئے آئے ہوئے پٹھان پر ڈالنے لگے۔نیک محمد خاں صاحب نئے نئے احمدیت میں آئے تھے اور احمدیت کی وجہ سے اُنہوں نے دُکھ اور تکالیف برداشت کی تھیں اس لئے اُن کا جوش تازہ تھا۔جس وقت اکبر شاہ خاں صاحب نجیب آبادی نے کہا کہ تمہیں پتہ ہے میں کون ہوں ؟ میں پٹھان ہوں۔تو نیک محمد خاں صاحب نے کہا تمہیں پتہ نہیں میں کون ہوں؟ میں احمدی ہوں۔اب دیکھ لو جس کی پٹھانیت مشتبہ تھی وہ تو یہ کہتا ہے کہ میں پٹھان ہوں لیکن جس کی پٹھانی میں کوئی شبہ نہیں تھا وہ کہتا ہے میں احمدی ہوں۔حالانکہ ممکن ہے کہ اکبر شاہ خاں صاحب کسی اور قوم سے ہوں لیکن پٹھانوں میں رہنے کی وجہ سے پیٹھان کہلانے لگ گئے ہوں۔جیسے ایک میراثی کا لطیفہ مشہور ہے۔جب یہاں انگریزوں کی حکومت تھی تو بعض قوموں کو زمین خریدنے کی اجازت نہ تھی اور بعض کو خریدنے کی اجازت تھی۔بعض علاقوں میں سید زمین خرید سکتے تھے اور بعض علاقوں میں وہ زمین نہیں خرید سکتے تھے۔بعض علاقوں میں انہیں زمیندار سمجھا جاتا تھا اور زمین خریدنے کی انہیں اجازت تھی لیکن بعض علاقوں میں انہیں غیر زمیندار سمجھا جاتا تھا اس لئے وہ وہاں زمین نہیں خرید سکتے تھے۔میراثیوں کا ایک خاندان تھا جس کے بڑے بڑے افسروں سے تعلقات تھے۔اُنہوں نے روپیہ جمع کرنا شروع کیا اور ایک وقت ایسا آیا جب وہ بہت مالدار ہو گئے۔اب اُنہوں نے خیال کیا کہ یہ اُن کی بے عزتی ہے کہ لوگ انہیں میراثی کہیں۔میراثیوں کے نزدیک "میراثی" دراصل میر آئی ہے یعنی اصل میں وہ ہیں تو سید لیکن کسی وقت اُن کے سردار کا کسی گناہ کی وجہ سے بائیکاٹ کر دیا گیا تھا۔اس لئے لوگوں نے انہیں میراثی کہنا شروع کر دیا۔بہر حال وہ سید بن گئے۔روپیہ جمع تھا ہی اس لئے اُنہوں نے زمین خرید لی۔جن لوگوں سے اُنہوں نے زمین خریدی تھی اُن کا ہمسایہ ایک زمیندار تھا۔وہ مالدار تو نہیں تھا لیکن تھا عقلمند اور حوصلہ والا۔اس نے اُن کے خلاف