انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 555 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 555

انوار العلوم جلد 23 555 مسئلہ خلافت سوال کرتی ہے اور میرے سامنے بھی یہ سوال کئی دفعہ آیا ہے کہ باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ نے صحابہ کو ایسی اعلیٰ درجہ کی تعلیم دی تھی جس میں ہر قسم کی سوشل تکالیف اور مشکلات کا علاج تھا اور پھر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عمل کر کے بھی دکھا دیا تھا پھر وہ تعلیم گئی کہاں اور 33 سال ہی میں وہ کیوں ختم ہو گئی ؟ عیسائیوں کے پاس مسلمانوں سے کم درجہ کی خلافت تھی لیکن ان میں اب تک پوپ چلا آرہا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عیسائیوں میں پوپ کے باغی بھی ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی اکثریت ایسی ہے جو پوپ کو مانتی ہے اور اُنہوں نے اس نظام سے فائدے بھی اُٹھائے ہیں لیکن مسلمانوں میں 33 سال تک خلافت رہی اور پھر ختم ہو گئی۔اسلام کا سوشل نظام 33 سال تک قائم رہا اور پھر ختم ہو گیا۔نہ جمہوریت باقی رہی نہ غربا پروری رہی۔نہ لوگوں کی تعلیم اور غذا اور لباس اور مکان کی ضروریات کا کوئی احساس رہا۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ساری باتیں کیوں ختم ہو گئیں؟ اس کی یہی وجہ تھی کہ مسلمانوں کی ذہنیت خراب ہو گئی تھی۔اگر ان کی ذہنیت درست رہتی تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ یہ نعمت ان کے ہاتھ سے چلی جاتی۔پس تم خدا تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرو اور ہمیشہ اپنے آپ کو خلافت سے وابستہ رکھو۔اگر تم ایسا کرو گے تو خلافت تم میں ہمیشہ رہے گی۔خلافت تمہارے ہاتھ میں خدا تعالیٰ نے دی ہی اِس لئے ہے تا وہ کہہ سکے کہ میں نے اسے تمہارے ہاتھ میں دیا تھا۔اگر تم چاہتے تو یہ چیز ہمیشہ تم میں قائم رہتی۔اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اسے الہامی طور پر بھی قائم کر سکتا تھا مگر اس نے ایسا نہیں کیا بلکہ اس نے یہ کہا کہ اگر تم لوگ خلافت کو قائم رکھنا چاہو گے تو میں بھی اسے قائم رکھوں گا۔گویا اس نے تمہارے منہ سے کہلوانا ہے کہ تم خلافت چاہتے ہو یا نہیں چاہتے۔اب اگر تم اپنا منہ بند کر لو یا خلافت کے انتخاب میں اہلیت مد نظر نہ رکھو مثلاً تم ایسے شخص کو خلافت کے لئے منتخب کر لو جو خلافت کے قابل نہیں تو تم یقیناً اس نعمت کو کھو بیٹھو گے۔مجھے اس طرف زیادہ تحریک اس وجہ سے ہوئی کہ آج رات دو بجے کے قریب