انوارالعلوم (جلد 23) — Page 549
انوار العلوم جلد 23 549 مجلس خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع 1953ء کے موقع پر۔۔۔نے اس شخص کو چنا ہے جس کے سوا اور کوئی مستحق ہی نہیں تھا۔پھر میں کہوں گا کہ اگر تم خدمتِ خلق کرتے ہو تو تمہیں اس کے مفید طریق اختیار کرنے چاہئیں۔میں نے کراچی کی رپورٹ سُنی ہے وہ نہایت معقول رپورٹ تھی۔میرے نزدیک وہ رپورٹ تمام مجالس تک پہنچانی چاہئے تاکہ وہ اس سے سبق حاصل کریں۔یہاں رپورٹوں میں عام طور پر یہ درج ہوتا ہے کہ اتنے لوگوں کو رستہ بتایا گیا۔حالانکہ یہ نہایت ادنی اور معمولی نیکی ہے اور ایسی ہی بات ہے جیسے کہتے ہیں کسی نے اپنی ماں کو پنکھا جھلنے پر ایک ریچھ کو مقرر کیا۔اس کی ماں بیمار تھی۔مریضہ پر ایک مکھی بیٹھ گئی۔ریچھ نے ایک پتھر اٹھا کر اس لکھی پر دے مارا جس سے وہ مکھی تو شاید نہ مری لیکن اس کی ماں مر گئی۔یہ کوئی خدمت نہیں جسے بڑے فخر کے ساتھ خدمتِ خلق کا کام قرار دیا جاتا ہے۔تم وہ کام کرو جو ٹھوس اور نتیجہ خیز ہو۔اور اس کے لئے خدام الاحمدیہ کراچی کی رپورٹ بہترین رپورٹ ہے جو تمام مجالس میں پھیلانی چاہئے تا انہیں معلوم ہو کہ انہوں نے کس طرح خدمت خلق کا فریضہ سر انجام دیا۔میں تمہیں اس کا چھوٹا سا طریق بتاتا ہوں۔اگر تم میں جوش پایا جاتا ہے کہ تم ملک اور قوم کے مفید وجود بنو تو تم اس پر عمل کرو۔اس وقت جو خدام حاضر ہیں ان میں سے جو لوگ تجارت کا کام کرتے ہیں وہ کھڑے ہو جائیں"۔حضور کے اس ارشاد پر 40 خدام کھڑے ہوئے۔فرمایا:۔فرمایا:- جو خدام صنعت و حرفت کا کام کرتے ہیں وہ کھڑے ہو جائیں"۔حضور کے اس ارشاد پر 49 خدام کھڑے ہوئے۔اس کے بعد حضور نے "وہ ذریعہ جو میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ تم ارادہ اور عزم کر لو کہ تم میں سے ہر ایک نے اس سال کسی ایک شخص کو تجارت پر لگانا ہے۔چاہے وہ تمہارے رشتہ داروں میں سے ہو یا کوئی غیر ہو۔اسی طرح پر صناع یہ عہد کرے کہ اس نے اس سال کسی نہ کسی شخص کو اپنا کام سکھانا ہے۔ایک سال میں وہ شخص ماہر کاریگر تو نہیں بن سکتا لیکن اگر وہ