انوارالعلوم (جلد 23) — Page 546
انوار العلوم جلد 23 546 مجلس خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع 1953ء کے موقع پر۔۔۔بجائے ٹکراؤ کے تعاون سے کام لینا چاہئے لیکن مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض جگہ خدام الاحمدیہ کی تنظیم اور جماعت کی دوسری تنظیموں میں ٹکراؤ پیدا ہو گیا۔پھر جو لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کا امیر اچھا نہیں خود ان کے متعلق رپورٹیں آتی رہتی ہیں کہ ان کی دینی حالت گر رہی ہے۔فلاں پس تم اپنی ذکر الہی کی عادت اور اخلاص اور نمازوں کو درست کرو۔جب یہ چیزیں درست ہو جائیں گی تو خود بخود لوگ تمہیں آگے لے آئیں گے اور یہ شکوہے سب ختم ہو جائیں گے۔تم اپنے اندر نماز کی پابندی کی عادت پیدا کر و اور جھوٹ سے بکلی پر ہیز کرو۔جھوٹ ایسی چیز ہے کہ اگر انسان اس کو چھوڑ دے تو اس کی دھاک بیٹھ جاتی ہے۔جھوٹ کو انسان سب سے زیادہ چھپاتا ہے لیکن سب سے زیادہ وہی ظاہر ہوتا ہے۔جھوٹ ایک ایسی بدی ہے کہ عام لوگ اس کو جلدی سمجھ لیتے ہیں اور اگر انہیں دوسرے کو جھوٹا کہنے کی جرات نہ ہو تو وہ کم از کم اپنے دلوں میں یہ بات ضرور لے جاتے ہیں کہ شخص جھوٹا ہے۔اور سچ ایک ایسی نیکی ہے کہ مُنہ پر کوئی شخص بچے انسان کو سچا کہے نہ کہے وہ اپنے دل پر یہ اثر لے کر جاتا ہے کہ فلاں شخص سچا اور راست باز ہے۔اگر خدام الاحمدیہ یہ کام کر لیں کہ ان کے اندر سچائی کا جذبہ پیدا ہو جائے تو ان کی اخلاقی برتری ثابت ہو جائے گی اور کسی شخص کو ان پر حملہ کرنے کی جرات نہیں ہو گی۔ہر شخص یہی سمجھے گا کہ انہیں ذلیل کرنا بچے کو ذلیل کرنا ہے اور کوئی قوم یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ سچ کو ذلیل کیا جائے۔پھر محنت کی عادت ہے۔دُنیا میں تمام ترقیات محنت سے ملتی ہیں۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ احمدیوں کو رعایتاً عہدے مل جاتے ہیں۔اگر تم کام میں سست ہو گے تو سُننے والوں کو اس بات کا یقین ہو جائے گا اور وہ سمجھیں گے کہ انہیں عہدے محض رعایت کی وجہ سے ملتے ہیں ورنہ ان میں کام کرنے کی قابلیت موجود نہیں لیکن اگر وہ دیکھیں کہ احمدی جان مار کر کام کرتے ہیں اور حکومت اور ملک کو اتنا فائدہ پہنچاتے ہیں جتنا فائدہ سرے لوگ نہیں پہنچاتے تو ہر ایک شخص کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ کہنا کہ احمدیوں کو