انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 544 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 544

انوار العلوم جلد 23 544 مجلس خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع 1953ء کے موقع پر۔۔۔کام لے جو کام کرنا چاہتے ہیں۔آپ لوگ تو سلسلہ سے بے غرض ہوئے وہ آپ سے کام کیسے لے۔اگر کسی نے کام کرنا ہے تو اُسے انگلی ہلانی پڑے گی بغیر انگلی ہلانے کے کوئی کام نہیں ہو سکتا۔بہر حال ہم اُس سے کام کرنے کے لئے کہیں گے جو کام کرے۔اللہ تعالیٰ کراچی کی جماعت کو ہر نظر بد سے بچائے۔اُنہوں نے فسادات کے ایام میں نہایت اعلیٰ درجہ کا نمونہ دکھایا ، ایسی قابلیت کا مظاہرہ کیا کہ وہ نائب مرکز بن گئے۔یہی وجہ تھی کہ میں نے اعلان کیا کہ کراچی میں بھی ایک صدر انجمن احمد یہ ہو گی تا اگر جماعت کا کام کسی وقت معطل ہو جائے تو وہ کام سنبھال سکے کیونکہ مجھے اُمید تھی کہ جب اُنہوں نے بغیر ذمہ داری کے اتنا کام کیا ہے تو اگر ان پر ذمہ داری ڈال دی جائے گی تو وہ کام کو وقت پر سنبھال سکے گی۔پنجاب کی جماعتوں کو میرا یہ فعل بُرا لگا اور اُنہوں نے احتجاج کیا کہ کراچی میں بھی صدر انجمن بن گئی ہے۔اب تو دو عملی پید اہو جائے گی۔میں نے انہیں یہی جواب دیا کہ یہ تو حسد ہے۔جو لوگ کام کریں گے بہر حال وہی آگے لائے جائیں گے اور جو لوگ کام نہیں کریں گے وہ بہر حال گریں گے۔اگر کسی خاندان نے کسی وقت کام کیا ہے تو ہمیں اس سے انکار نہیں لیکن اگر اب وہ کام نہیں کرتے تو سلسلہ انہیں کیوں آگے لائے؟ سلسلہ تو انہیں لوگوں کو آگے لائے گا جو ایثار اور قربانی کا اعلیٰ نمونہ دکھائیں گے دوسری جماعتوں اور خاندانوں کو اپنا و قار رکھنا مقصود ہے تو وہ کام کریں اور پھر کام بھی دیانت اور تقویٰ سے کریں لیکن اگر وہ یہ چاہتے ہیں کہ چونکہ ان کے باپ دادوں نے کام کیا تھا اس لئے انہیں عزت ملنی چاہئے تو یہ غلط ہے۔ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا۔جماعت نے اگر زندہ رہنا ہے تو وہ ایسے وجو دوں کو الگ پھینک دے گی۔یہ بے حیائی کی علامت ہے کہ جو کام نہ کرے اُسے لیڈر بنا لیا جائے۔اگر کسی خاندان نے کسی وقت خدمت کی ہے اور اب ان کی اولاد کام کرنا نہیں چاہتی تو ان خاندانوں کو آگے آنے کا کوئی حق نہیں کیونکہ ان کی اولاد اب کام کرنا نہیں چاہتی بلکہ وہ یہ چاہتی ہے کہ انہیں محض اس لئے عزت دی جائے کہ ان کے باپ دادوں نے کسی وقت کام کیا تھا۔اب جو کام کریں گے بہر حال وہی آگے آئیں گے اور جو کام نہیں کریں گے وہ آگے نہیں آئیں گے۔