انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 543 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 543

انوار العلوم جلد 23 543 مجلس خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع 1953ء کے موقع پر۔۔۔میں نے خدام الاحمدیہ کو پہلے بھی کئی بار اس طرف توجہ دلائی ہے اور اب پھر توجہ دلاتا ہوں کہ اس اجتماع کا مقصد خالی کھیل کود نہیں بلکہ اس کی غرض نوجوانوں کے اندر وہ قربانی اور اخلاص پیدا کرنا ہے جس کے ساتھ وہ اپنے فرض کو صحیح طور پر ادا کر سکیں۔مجھے نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ خدام الاحمدیہ نے ابھی تک اپنے فرض کو صحیح طور پر ادا نہیں کیا بلکہ میں نے دیکھا ہے کہ بعض جگہوں پر نوجوانوں کی اس الگ تنظیم کی وجہ سے ان میں اعتراض کرنے کی عادت پید اہو گئی ہے۔آج ہی ایک خادم مجھے ملنے آئے تو وہ کہنے لگے ہماری جماعت میں یہ یہ خرابی ہے۔وہ ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس نے ایک وقت میں سلسلہ کی اعلیٰ خدمت کی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ان کی روایات اعلیٰ تھیں تو انہوں نے اپنے آپ کو کیوں اس رنگ میں منظم نہ کیا کہ جماعت انہیں آگے لے آتی اور جب لوگ امیر بناتے تو انہی میں سے کسی کو بناتے۔اگر جماعت کے لوگوں نے ان میں سے کسی کو امیر نہیں بنایا تو اس کے یہی معنے ہیں کہ اب ان کے سلسلہ کے ساتھ پہلے کی طرح اچھے تعلقات نہیں ورنہ جماعت کے لوگوں کو ان سے کوئی دُشمنی تھی کہ وہ انہیں نظر انداز کر دیں؟ اگر مقامی جماعت نے انہیں آگے نہیں آنے دیا تو ان میں کوئی خرابی ضرور تھی۔خالی شکایات کرنے سے کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔اس کے تو یہ معنے ہیں کہ کام کرنے والوں کو ہٹا دیا جائے اور نکموں کو آگے لایا جائے اور جماعت کو آوارہ چھوڑ دیا جائے۔یہ بات قطعی طور پر غلط ہے۔ابھی تھوڑے ہی دن ہوئے ایک غیر ملک سے مجھے شکایت آئی کہ جماعت فلاں شخص سے کام لے رہی ہے حالانکہ وہ منافق ہے۔میں نے اُسے جواب میں یہی لکھا کہ آپ کے نزدیک جماعت کا کچھ حصہ تو منافق ہے اور کچھ حصہ جماعت میں شامل تو ہے لیکن کام سے غافل ہے اور جماعت کی کوئی خدمت نہیں کرنا چاہتا۔آپ کے نزدیک جو لوگ غافل ہیں اور جماعت کی کوئی خدمت نہیں کرنا چاہتے وہ تو مومن ہیں اور جو خدمت کر رہے ہیں وہ منافق ہیں۔اب ظاہر ہے کہ سلسلہ ان لوگوں سے کوئی کام نہیں لے سکتا جو کام نہیں کرتے۔اس لئے اب سوائے اس کے اور کیا چارہ ہے کہ وہ ان لوگوں سے