انوارالعلوم (جلد 23) — Page 509
انوار العلوم جلد 23 509 تحقیقاتی کمیشن کے سات سوالوں کے جوابات بے علم و بے عمل مسلمان کو جس کا علم و عمل کا فر جیسا ہو اور وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو کافر ہی قرار دیا ہے اور اس کا حشر بھی کافروں والا بتایا ہے یعنی اس کو نجات سے محروم اور قابلِ مؤاخذہ قرار دیا ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں: ”ہر شخص جو مسلمان کے گھر میں پیدا ہوا ہے جس کا نام مسلمانوں کا سا ہے، جو مسلمانوں کے سے کپڑے پہنتا ہے اور جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے حقیقت میں وہ مسلمان نہیں ہے بلکہ مسلمان در حقیقت صرف وہ شخص ہے جو اسلام کو جانتا ہو اور پھر جان بوجھ کر اس کو مانتا ہو۔ایک کافر اور ایک مسلمان میں اصلی فرق نام کا نہیں کہ وہ رام پرشاد ہے اور یہ عبد اللہ ہے اس لئے وہ کافر ہے اور مسلمان “ 22 اسی طرح دوسرے مسلمان فرقوں کے علماء ایک دوسرے کو کافر اور جہنمی کہتے ہیں شیعہ اثنا عشریہ کے متعلق علماء اہلسنت والجماعت اور علماء دیوبند متفقہ طور پر مندرجہ ذیل فتویٰ صادر کرتے ہیں: شیعہ اثنا عشریه قطعاً خارج از اسلام ہیں۔شیعوں کے ساتھ مناکحت قطعاً ناجائز اور ان کا ذبیحہ حرام۔ان کا چندہ مسجد میں دینا ناروا ہے۔ان کا جنازہ پڑھنا یا ان کو اپنے جنازہ میں شریک کرنا جائز نہیں“۔23 (نوٹ) اس فتویٰ میں دیگر علماء کے علاوہ دیوبند کی تصدیق بھی شامل ہے جس کی شہادت مولانا محمد شفیع صاحب مفتی دیو بند سے لی جاسکتی ہے۔مندرجہ بالا فتویٰ کی عبارت سے خالص مذہبی اختلافات ہی ظاہر نہیں ہوتے بلکہ شیعہ فرقہ کے خلاف شدید غیظ و غضب کا اظہار پایا جاتا ہے۔علاوہ ازیں اہلسنت و الجماعت کے مسلمہ گزشتہ بزرگان و اولیاء نے بھی حضرات شیعہ کے بارے میں فتویٰ کفر دیا ہے حوالہ جات ذیل ملاحظہ ہوں۔