انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 503 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 503

--_--_--_--_--_--_----------------------------------- انوار العلوم جلد 23 503 تحقیقاتی کمیشن کے سات سوالوں کے جوابات رہ جائے گا۔یہ حدیث اسی زمانہ کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔چنانچہ جماعت اسلامی کے امیر مولانا ابو الاعلیٰ صاحب مودودی بھی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو جو ان کی جماعت میں شامل نہیں ہیں صرف رسمی اور اسمی مسلمان قرار دیتے ہیں۔چنانچہ وہ مسلمانوں کی دو قسمیں بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: دنیا میں جو مسلمان پائے گئے ہیں یا آج پائے جاتے ہیں ان سب کو دو حصوں میں منقسم کیا جاسکتا ہے۔ایک قسم کے مسلمان وہ جو خدا اور رسول کا اقرار کر کے اسلام کو بحیثیت اپنے مذہب کے مان لیں مگر اپنے اس مذہب کو اپنی کلی زندگی کا محض ایک جزو اور ایک شعبہ ہی بنا کر رکھیں۔اس مخصوص مجزو اور شعبے میں تو اسلام کے ساتھ عقیدت ہو۔لیکن فی الواقع ان کو اسلام سے کوئی علاقہ نہ ہو۔دوسری قسم کے مسلمان وہ ہیں جو اپنی پوری شخصیت کو اور اپنے سارے وجو د کو اسلام کے اندر پوری طرح دے دیں۔ان کی ساری حیثیتیں ان کے مسلمان ہونے کی حیثیت میں گم ہو جائیں۔۔۔۔۔یہ دو قسم کے مسلمان حقیقت میں بالکل ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔چاہے قانونی حیثیت سے دونوں پر لفظ مسلمان کا اطلاق یکساں ہو“۔ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:۔وو یہ انبوہ عظیم جس کو مسلمان قوم کہا جاتا ہے اس کا حال یہ ہے کہ اس کے 999 فی ہزار افراد نہ اسلام کا علم رکھتے ہیں، نہ حق اور باطل کی تمیز سے آشنا ہیں ، نہ ان کا اخلاقی نقطہ نظر اور ذہنی رویہ اسلام کے مطابق تبدیل ہوا ہے۔باپ سے بیٹے اور بیٹے سے پوتے کو بس مسلمان کا نام ملتا چلا آرہا ہے“۔2 اسی طرح موجودہ دور کے مسلمانوں کے متعلق اہلحدیث کا خیال بھی ملاحظہ فرمایا جاوے۔نواب صدیق حسن خاں صاحب بھوپالوی اپنی کتاب اقتراب الساعۃ کے