انوارالعلوم (جلد 23) — Page 502
انوار العلوم جلد 23 502 تحقیقاتی کمیشن کے سات سوالوں کے جوابات مندرجہ بالا تشریح کے مطابق جو شخص رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتا ہے اور آپ کی امت میں سے ہونے کا اقرار کرتا ہے وہ اپنے کسی عقیدہ یا عمل کی دانستہ یا نادانستہ غلطی کی وجہ سے اس نام سے محروم نہیں ہو سکتا۔ظاہر ہے کہ اس تشریح کے مطابق اور قرآن کریم کی آیت ” هُوَ سَتكُمُ الْمُسْلِمِینَ“ کے تحت کسی شخص کو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو نہ ماننے کی وجہ سے غیر مسلم نہیں کہا جاسکتا۔ممکن ہے ہماری بعض سابقہ تحریرات سے غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔اس کے متعلق ہم کہہ دینا چاہتے ہیں کہ ہماری ان بعض سابقہ تحریرات میں جو اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں وہ ہماری مخصوص ہیں۔عام محاورہ کو جو مسلمانوں میں رائج ہے استعمال نہیں کیا گیا۔کیونکہ ہم نے اس مسئلہ پر یہ کتابیں غیر احمدیوں کو مخاطب کر کے شائع نہیں کیں بلکہ ہماری یہ تحریرات جماعت کے ایک حصہ کو مخاطب کر کے لکھی گئی ہیں اس لئے ان تحریرات میں ان اصطلاحات کو مد نظر رکھنا ضروری نہیں تھا جو دوسرے مسلمانوں میں رائج ہیں۔ہمارے اس عقیدہ کی تائید کی کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو نہ ماننے والا مسلمان مسلمان “ ہی کہلائے گا حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے الہامات سے بھی ہوتی ہے چنانچہ ملاحظہ ہو آپ کا الہام مسلماں را مسلماں باز کردند 3 یعنی آپ کی بعثت کی غرض مسلمانوں کی حقیقی مسلمان بنانا ہے ایک دوسرے الہام میں خدا تعالیٰ نے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو یہ دعا سکھلائی ہے رَبِّ اَصْلِحْ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ 4 حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنی تمام کتابوں میں ان تمام مسلمانوں کو جو آپ کی جماعت میں داخل نہیں مسلمان کہہ کر ہی خطاب کیا ہے ؟ کیونکہ وہ اسلام کی عمومی تعریف کے مطابق طیبہ پر ایمان لانے کا اقرار کرتے ہیں۔اسی طرح موجودہ امام جماعت احمد یہ بھی اُن کو مسلمان کے لفظ سے خطاب کرتے ہیں۔6 ہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے "يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لا يَبْقَى مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا اسْمُه 7 یعنی لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ اسلام کا صرف نام دو