انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 474 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 474

انوار العلوم جلد 23 474 قرآن مجید کی بیان کردہ تین صداقتیں سائنس کی۔۔۔تھے۔جنگ کے بعد یہ اندازہ چھ ہزار سال تک پہنچ گیا اور اب نیا نظریہ یہ ہے کہ دُنیا کی لمبائی روشنی کے چھتیس ہزار سال کے برابر ہے۔اس وقت محققین کے دو نظریے ہیں۔بعض لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ دُنیا EXPAND ہو رہی ہے۔جوں جوں ہم علمی طور پر آگے بڑھتے ہیں دُنیا کی وسعت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔دوسرے گروہ کا خیال ہے کہ در حقیقت ابھی تک ہم نے صحیح اندازہ ہی نہیں کیا۔ہمارے سارے اندازے ناقص اور کم ہیں۔قرآن مجید کہتا ہے الی رنگ منتهها کہ ہر چیز کی اُلجھنیں اللہ ہی حل کر سکتا ہے اور ہر چیز انجامکار تیرے رب کی طرف پہنچتی ہے۔گویا ہمارے سامنے UNLIMITED SOURCES (غیر محدود خزانے) موجود ہیں جن کی ریسرچ ہم نے کرنی ہے لیکن ہمارے پاس سامان نہیں۔ایٹم بم کے متعلق پانچ ہزار ور کر کام کر رہے ہیں لیکن ہمارے ہاں یہاں صرف پانچ کارکن ہیں۔پھر ان کے سامانوں کی فراوانی سے بھی ہمیں کوئی نسبت نہیں۔اُن لوگوں کا بجٹ دو دو ارب کا ہوتا ہے۔ہمارے ریسرچ کے بجٹ کو اُن کے بجٹ کے ساتھ کوئی نسبت نہیں۔ظاہر ہے کہ جب سامان تھوڑے ہوں اور کام کرنے والے آدمی تھوڑے ہوں تو کام کی نسبت زیادہ ہونی ضروری ہے۔کم ہمت آدمی کام کی زیادتی کو دیکھ کر کہتا ہے کہ بہت کام ہے مجھ سے تو یہ ہو ہی نہیں سکے گا۔اس لئے وہ کام چھوڑ کر بیٹھ جاتا ہے اور مختلف جھوٹے عذرات پیش کرتا ہے لیکن اچھا آدمی کام کی زیادتی کی وجہ سے گھبراتا نہیں بلکہ کہتا ہے کہ میں کام کے لئے وقت کی مقدار کو بڑھا کر اور محنت میں اضافہ کر کے اس کام کو کروں گا۔سوچ لو کہ جب دُنیا کے سامنے یہ حقیقت واضح طور پر پیش ہو کہ ایک ایسا ہے کہ زیادہ کام کو دیکھ کر اُس نے کام کرنا ہی چھوڑ دیا اور دوسرا ایسا ہے کہ کام کی زیادتی کی وجہ سے اس نے زیادہ محنت اور زیادہ ہمت سے کام کو سر انجام دیا تو دُنیا اُن میں سے کس کو اچھا سمجھے گی اور کس کو بُرا قرار دے گی۔صحابہ کی کامیابی تو خاص خدائی نصرت کا نتیجہ تھی۔دنیوی طور پر بھی بعض لوگ ایسے گزرے ہیں کہ جنہوں نے بظاہر ناممکن کاموں کو ممکن کر دکھایا ہے۔سکندر، چنگیز خاں، تیمور، بابر اور ہٹلر وغیرہ ایسے ہی