انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 447 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 447

انوار العلوم جلد 23 447 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اُن کے حقوق پر یہ فیصلہ اثر انداز نہ ہو گا۔بجز اس کے کہ غیر ارکان کے بارے میں یہ تحقیقات کی جائے گی کہ آیا فی الواقع وہ ہمدردوں کی تعریف میں آتے ہیں یا نہیں اور اُن کو نظام جماعت سے موجودہ علیحدگی محض کسی مجبوری یا صرف جماعت کے عدم اطمینان کی بناء پر ہے یا کسی اور وجہ سے۔جو لوگ فی الواقع ہمدرد ثابت ہوں گے اُن کی خریداری کو باقی رکھا جائے گا اور دوسرے احباب سے درخواست کی جائے گی کہ وہ اپنی رقوم واپس لے لیں اور اس طرح دار الاسلام کی بستی کو خالصہ ایک نمونہ کی بستی بنانے میں مدد دیں۔(خاکسار طفیل محمد قیم جماعت اسلامی ذیلدار پارک اچھرہ لاہور)“۔417 سوال نمبر 10 متعلق مخالفت پاکستان دہم یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ وہ پاکستان کے مخالف ہیں اور عقلاً بھی وہ مخالف ہونے چاہئیں کیونکہ وہ ایک امام کو مانتے ہیں اور اس طرح وہ ایک متوازی حکومت بنانے کے جو رم ہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ امام کو ماننا تو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ امام اور سیاست وسلم کا حکم ہے۔رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ و شخص امام کی بیعت میں نہ ہو وہ اپنی زندگی رائیگان کر دیتا ہے۔418 اور امام کا ہونا بڑی اچھی بات ہے۔اس کے بغیر تو کوئی انتظام ہو ہی نہیں سکتا۔جو لوگ امام کو سیاست کا حق دیتے ہیں اُن پر تو یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ وہ ایک متوازی حکومت بناتے ہیں لیکن جو لوگ اپنے امام کو سیاست کا حق نہیں دیتے اُن پر یہ اعتراض کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ ایک متوازی حکومت بناتے ہیں۔جماعت احمدیہ کا تو اعتقاد یہ ہے کہ جس حکومت کے تحت میں رہو اُس حکومت کی اطاعت کرو۔کیسی عجیب بات ہے کہ انگریز کے وقت میں تو اس امر پر زور دیا جاتا اور بڑے شدومد سے یہ پروپیگینڈا