انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 439

انوار العلوم جلد 23 439 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ صورت میں بھی یہی سمجھا جاسکتا تھا کہ خطاب اُن چند مخصوص ”دشمنوں“ سے ہے نہ کہ عام مسلمانوں سے۔وہ ” دشمن“ جو آپ کو 1898ء میں گالیاں دیتے تھے فوت بھی ہو چکے اور آب اُن میں سے ایک بھی زندہ نہیں لیکن سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور دوسرے احرار لیڈروں نے عام جلسوں میں یہاں تک کہا کہ ”مرزا صاحب نے خواجہ ناظم الدین اور ممتاز دولتانہ اور دوسرے تمام مسلمانوں کو خنزیر اور اُن کی عورتوں کو کُتیاں قرار دیا ہے“۔حالانکہ عبارت پیش کردہ میں مسلمانوں کا نام نہیں ہے بلکہ صرف گالیاں دینے والے دشمنوں کا ذکر ہے۔ہم یہ صورتِ حال معزز عدالت کے نوٹس میں لا کر نہایت ادب سے عرض کرتے ہیں کہ اس قسم کے اشتعال انگیز اور بے بنیاد پروپیگنڈا کے نتیجہ میں جو فسادات رُونما ہوئے احرار اور ان کے ہمنوا اس کی ذمہ داری سے کسی طرح بچ نہیں سکتے۔غرضیکہ یہ حوالہ عیسائیوں کے متعلق ہے۔مسلمانوں کے متعلق ہے ہی نہیں۔یہ علماء خواہ مخواہ اپنے آپ کو عیسائی قرار دے کر اسے اپنے پر چسپاں کر رہے ہیں۔علاوہ ازیں بول چال میں جب کسی جانور کا نام انسانوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے تو اُس کی معروف صفت کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔خنزیر کی معروف صفت یہ ہے کہ وہ دائیں بائیں نہیں دیکھتا، سیدھا حملہ کرتا ہے۔انہیں معنوں میں قرآنِ کریم نے یہودیوں کو خنزیر کہا ہے۔یہ مطلب نہیں کہ یہود کو گالی دی ہے بلکہ اُن کی صفت بتائی ہے کہ بندروں کی طرح یہ لوگ بدکار ہو گئے اور سؤروں کی طرح دائیں بائیں نہیں دیکھتے، سوچتے نہیں اور یو نہی اسلام پر حملہ کر دیتے ہیں۔یہی معنی حضرت مسیح موعود کے مندرجہ بالا کلام کے ہیں جو عیسائیوں کے متعلق اُن کے ہزاروں حملوں کے جواب میں کہے گئے ہیں۔اگر قرآن کریم نے یہ الفاظ استعمال کر کے گالی نہیں دی تو بانی سلسلہ احمدیہ نے وہی الفاظ استعمال کر کے کس طرح گالیاں دی ہیں۔پس بانی سلسلہ احمدیہ کا وہ شعر جو عام طور پر مخالفین کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے۔