انوارالعلوم (جلد 23) — Page 417
انوار العلوم جلد 23 417 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ 66 نہیں تھا مگر اُس وقت بھی موجودہ امام جماعت احمدیہ نے ترکی کی تائید میں دو ٹریکٹ لکھے جن میں سے ایک کا نام ”ترکی کا مستقبل اور مسلمانوں کا فرض ہے اور دوسرے کا نام معاہدہ ترکیہ اور مسلمانوں کا آئندہ رویہ“ ہے۔عربوں کی امداد پھر جب عربوں کے ساتھ یورپین لوگوں نے معاہدہ کیا تو اس پر بھی امام جماعت احمدیہ نے سختی سے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ عربوں کے ساتھ انگریزوں نے ظلم کیا ہے اور ان کے ساتھ دھوکا کیا ہے۔374 انڈونیشیا کی آزادی پھر انڈونیشیا کی آزادی کا سوال پیدا ہوا تو اس میں بھی احمدی جماعت نے انڈو نیشیا کی آزادی کی پوری طرح تائید کی اور انڈو نیشیا کی زمین اسی طرح احمدی محبانِ وطن کے خون سے رنگین ہے جس طرح کہ غیر احمدی محبانِ وطن کے خون سے اور اسی کا نتیجہ تھا کہ انڈو نیشین ایمبیسیڈر (سفیر) نے اپنی حکومت کی طرف سے گزشتہ فسادات کے موقع پر حکومت پاکستان کے فارن منسٹر کے خلاف شورش پیدا ہونے پر انڈو نیشین حکومت کی ناپسندیدگی کو ظاہر کیا۔یہ انڈو نیشین ایمبیسیڈر احمدی نہیں تھا اور اب تک وہی ایمبیسیڈر ہے۔ہمیں افسوس ہے کہ مجلس عمل کے نمائندہ شمسی صاحب نے اس کو (اپنی ناجائز اغراض پوری کرنے کے لئے) احمدی قرار دیا ہے حالانکہ جس شخص کے متعلق کہا جاتا تھا کہ وہ احمدی ہے وہ کبھی بھی ایمبیسیڈر نہیں ہوا۔وہ موجودہ فسادات سے پہلے اور موجودہ ایمبیسیڈر سے پہلے انچارج کی حیثیت میں پاکستان میں رہا ہے اور ان فسادات سے پہلے بدل کر عراق میں بطور منسٹر کے چلا گیا تھا مگر یہ بتانے کے لئے کہ گویا بیرونی دنیا میں ان مظالم پر کوئی نفرت نہیں راہوئی تھی اگر کسی نے دلچسپی بھی لی تھی تو وہ صرف ایک احمدی تھا۔یہ جھوٹ بولا گیا کہ انڈو نیشین ایمبیسیڈر فساد کے وقت میں احمدی تھا۔فسادات کے وقت میں جو ایمبیسیڈر تھا وہ آج بھی ہے اور وہ نہ اُس وقت احمدی تھا اور نہ اس وقت تک ہے۔پیدا