انوارالعلوم (جلد 23) — Page 413
انوار العلوم جلد 23 413 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ تا کہ وہ مہتم بالشان تحریک جس نے ہمارے دشمنوں کو عرصہ تک پست و پائمال بنائے رکھا، آئندہ بھی جاری رہے۔۔۔۔۔مرزا صاحب اِس پہلی صف عشاق میں نمودار ہوئے تھے جس نے اسلام کے لئے یہ ایثار گوارا کیا کہ ساعت مہد سے لے کر بہار و خزاں کے سارے نظارے ایک مقصد پر ہاں ایک شاہد رعنا کے پیمانِ وفا پر قربان کر دیئے۔سیّد ، غلام احمد ، رحمت اللہ، آل حسن، وزیر خال، ابو المنصور - - سَابِقُونَ الْأَوَّلُونَ کے زمرہ کے لوگ تھے جنہوں نے باب مدافعت کا افتتاح کیا اور آخر وقت تک مصروف سعی رہے۔احمد، اختلاف طبائع اور اختلاف مدارج قابلیت کے ساتھ ان کے رازِ خدمت بھی جداگانہ تھے اور اسی لئے اثر اور کامیابی کے لحاظ سے اُن کے درجے بھی الگ الگ ہیں۔تاہم اس نتیجہ کا اعتراف بالکل ناگزیر ہے کہ مخالفین اسلام کی صفیں سب سے پہلے انہی حضرات نے برہم کیں۔مرزا صاحب کا لٹریچر جو مسیحیوں اور آریوں کے مقابلہ پر اُن سے ظہور میں آیا قبولِ عام کی سند حاصل کر چکا ہے اور اس خصوصیت میں وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔اس لٹریچر کی قدر و عظمت آج جبکہ وہ اپنا کام پورا کر چکا ہے ہمیں دل سے تسلیم کرنی پڑتی ہے۔اس لئے کہ وہ وقت ہر گز لوحِ قلب سے نَسْياً مَنْسِیا نہیں ہو سکتا جبکہ اسلام مخالفین کی یورشوں میں گھر چکا تھا اور مسلمان جو حافظ حقیقی کی طرف سے عالم اسباب و وسائط میں اس کی حفاظت پر مامور تھے اپنے قصوروں کی پاداش میں پڑے سسک رہے تھے اور اسلام کے لئے کچھ نہ کرتے تھے یانہ کر سکتے تھے۔ایک طرف حملوں کے امتداد کی یہ حالت تھی کہ ساری مسیحی دُنیا اسلام کی شمع عرفان حقیقی کو سر راہِ منزل مزاحمت سمجھ کے مٹا دینا چاہتی تھی اور عقل و دولت کی