انوارالعلوم (جلد 23) — Page 406
انوار العلوم جلد 23 سر سید احمد خان لکھتے ہیں :- 406 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ مسلمانوں کا بہت روزوں سے آپس میں سازش اور مشورہ کرنا اس ارادہ سے کہ ہم باہم متفق ہو کر غیر مذہب کے لوگوں پر جہاد کریں اور اُن کو حکومت سے آزاد ہو جائیں، نہایت بے بنیاد بات ہے۔جبکہ مسلمان ہماری گورنمنٹ کے مست امن تھے۔کسی طرح گورنمنٹ عملداری میں جہاد نہیں کر سکتے تھے۔میں تیس برس پیشتر ایک بہت بڑے نامی مولوی محمد اسمعیل نے ہندوستان میں جہاد کا وعظ کہا اور آدمیوں کو جہاد کی ترغیب دی۔اُس وقت اُس نے صاف بیان کیا کہ ہندوستان کے رہنے والے جو سر کار انگریزی کے امن میں رہتے ہیں ہندوستان میں جہاد نہیں کر سکتے۔اس لئے ہزاروں آدمی جہادی ہر ایک ضلع ہندوستان میں جمع ہوئے اور سرکار کی عملداری میں کسی طرح کا فساد نہیں کیا اور غربی سرحد پنجاب پر جاکر لڑائی کی اور یہ جو ضلع میں پاجی اور جاہلوں کی طرف سے جہاد کا نام ہؤا اگر اس کو ہم جہاد ہی فرض کریں تو بھی اس کی سازش اور صلاح قبل دسویں مئی 1857ء مطلق نہ تھی“۔364 علامہ سید رشید رضا صاحب شامی ثم مصری اپنی تفسیر المنار جلد 10 مطبوعہ قاہرہ صفحہ 307 پر لکھتے ہیں:۔”ہم نے یہ دلیلیں اس لئے کثرت سے دی ہیں کہ یورپین لوگ اور اُن کے مقلد اور اُن کے شاگر د مشرقی عیسائیوں میں سے یہ دعوی کرتے ہیں کہ جہاد کے معنے یہ ہیں کہ مسلمان ہر اُس شخص سے لڑے جو کہ مسلمان نہیں تا کہ اُس کو مجبور کر کے اسلام میں داخل کرے۔خواہ غیر مسلموں نے اُن پر زیادتی نہ کی ہو اور اُن سے دُشمنی نہ کی ہو اور اے پڑھنے والے تجھ پر روشن ہو چکا ہو گا اُن دلیلوں سے جو